تازہ ترین
• عرب ریڈنگ چیلنج: دنیا کا سب سے بڑا ادبی مقابلہ • کتاب حقیقۃ الفقہ: حدیث و فقہ کی تکمیلی حیثیت کو واضح کرتی ہے • حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہل بیت سے محبت اور رشتہ داریاں • مسلمان ایک جسم کے مانند ہے • تلنگانہ میں آئندہ ایم ایل سی انتخابات کے لیے 16 نومبر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں کراسکتے ہیں اندراج • پیارے کھڑگے جی! یہ کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ • انڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن ودربھ اسٹیٹ یونٹ کا اجلاس اختتام پذیر ہوا • گوونڈی میں یو سی سی پر میٹنگ اختتام پذیر • ہر ایک شخص وفادار ہو ضروری کیا • وزیرِ اعلیٰ کیرالا نے دارالہدیٰ سباق 2026 کی دعوت قبول کرلی، لوگو کی رونمائی

علماء "دین" کے ٹھیکیدار نہیں بلکہ "دین" کے محافظ و پاسبان ہیں

📅 05-11-2026 👁 38 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 3 شیئر
عمومی

زیرِ نظر تصویر میں ایک جملہ تحریر ہے... علماء دین کے ٹھیکیدار نہیں بلکہ دین کے چوکیدار ہیں اور چوکیدار سے نفرت صرف ڈاکو کرتے ہیں۔

یہ جملہ اپنی اصل روح میں علماء کے دینی منصب اور ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن اس کے بعض الفاظ اور اسلوب پر علمی و فکری گفتگو کی گنجائش بھی موجود ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دین کسی فرد، خاندان، جماعت یا ادارے کی ذاتی ملکیت نہیں کہ کوئی اس کا ٹھیکیدار بن بیٹھے۔ دین اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ نظامِ ہدایت ہے۔ علماء اس کے مالک نہیں بلکہ اس کے علوم کے امین، شریعت کے شارح، تعلیم و تبلیغ کے ذمہ دار اور دینی اقدار کے محافظ ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے...

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ۔ (سورۃ التوبہ: 122)

ترجمہ: تو کیوں نہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین میں سمجھ حاصل کرے اور اپنی قوم کو ڈرائے، جب ان کے پاس واپس آئے تاکہ وہ بچیں۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دین کی سمجھ حاصل کرنا، اس کی تعلیم دینا اور لوگوں کی رہنمائی کرنا اہلِ علم کی اہم ذمہ داری ہے۔

اسی طرح ارشادِ ربانی ہے...

فَاسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ (سورۃ النحل: 43)

ترجمہ: اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔

یہاں علماء کا منصب محض معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ علم و بصیرت کی روشنی میں صحیح رہنمائی کرنا بھی ہے۔

حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد ہے...

الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ۔

ترجمہ: علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ (سنن ابی داؤد، حدیث 3641؛ جامع ترمذی، حدیث 2682)

اس نسبت سے علماء کی ذمہ داری، عام نگہبانی سے کہیں وسیع ہے۔ انہیں قرآن و سنت کی تعلیم، عقائد و اعمال کی اصلاح، دینی مسائل کی وضاحت، امت کی رہنمائی اور فکری انحرافات کی علمی نشان دہی کرنی ہوتی ہے۔

چوکیدار، محافظ اور ٹھیکیدار: مفہوم کا فرق

لغوی اعتبار سے چوکیدار کے معنی نگہبان، پہرے دار اور محافظ کے بھی آتے ہیں۔ لہٰذا! ہر موقع پر اس لفظ کو توہین آمیز قرار دینا درست نہیں۔ البتہ عرفِ عام میں چوکیدار کا لفظ عموماً کسی مخصوص جگہ کی نگرانی کرنے والے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ محافظ کا مفہوم نسبتاً وسیع ہے۔

چوکیدار ایک مخصوص مقام کی حفاظت کرتا ہے لیکن محافظ کسی نظریے، ادارے، قوم، تہذیب، امانت یا نظام کی حفاظت بھی کر سکتا ہے۔

اسی لیے علماء کے منصب کی زیادہ جامع اور باوقار تعبیر یہ ہے کہ وہ دین کے محافظ، شریعت کے امین، علم کے وارث اور امت کے فکری و اعتقادی رہنما ہیں۔

کیا چوکیدار سے اختلاف کرنے والا ڈاکو ہے؟

تصویر کا آخری جملہ ہے...

اور چوکیدار سے نفرت صرف ڈاکو کرتے ہیں۔

یہ ایک طنزیہ اور خطیبانہ اسلوب ہے لیکن علمی اعتبار سے اس میں احتیاط ضروری ہے۔ ہر وہ شخص، جو کسی عالم کی رائے، طرزِ عمل یا کسی مخصوص تعبیر سے اختلاف کرے، اسے دین کا دشمن یا ڈاکو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اختلاف کی کئی صورتیں ہوتی ہیں؛ بعض علمی ہوتی ہیں، بعض اصلاحی اور بعض واقعی تعصب یا عناد پر مبنی ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا! کسی کے اختلاف کو محض اس بنیاد پر اس کی بدنیتی کا ثبوت بنا دینا درست نہیں۔ البتہ جو شخص دانستہ طور پر دین کی تعلیمات کو مسخ کرے، حقائق کو چھپائے یا دینی امانتوں سے خیانت کرے، اس کے طرزِ عمل پر علمی اور اصولی تنقید ضرور ہونی چاہیے۔

علماء کا احترام بھی، احتساب بھی

یہاں ایک اور بنیادی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے... علماء کا احترام اپنی جگہ مسلم ہے لیکن احترام کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں تنقید و احتساب سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔ اسی طرح کسی عالم سے اختلاف کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس کی توہین کی جائے یا اس کے منصب کو حقیر سمجھا جائے۔ عالم سے دلیل کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کی اصلاح کی درخواست کی جا سکتی ہے، اس کے کسی موقف پر علمی نقد کیا جا سکتا ہے لیکن تحقیر، تمسخر اور بے ادبی کو علمی اختلاف کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری طرف علماء کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا منصب عزت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے۔ علم امانت ہے، فتویٰ جواب دہی ہے، منبر ایک دینی ذمہ داری ہے اور امامت محض ایک منصب نہیں بلکہ لوگوں کی دینی رہنمائی کا عہد ہے۔

میری نظر میں اس پوری بحث کا حاصل چند الفاظ میں یہ ہے... علماء دین کے مالک نہیں، امین ہیں۔ ٹھیکیدار نہیں، خادم ہیں۔ محض پہرے دار نہیں، بلکہ دین کے محافظ و پاسبان ہیں۔ ان کی عزت کیجیے، ان سے علمی رہنمائی لیجیے، ان کی غلطی ہو تو دلیل سے اصلاح کیجیے لیکن نہ انہیں تنقید سے بالاتر سمجھیے اور نہ ان کی توہین کو آزادیِ اظہار کا نام دیجیے۔ کیونکہ دین کسی کی جاگیر نہیں، علماء اس کے امین ہیں۔ اور امانت کی حفاظت کا حق بھی علم، دیانت، حکمت اور عدل کے ساتھ ہی ادا ہوتا ہے۔

تحریر: سیف اللہ قادری
چیئرمین: غوثِ اعظم فاؤنڈیشن

ردِعمل دیں (1)

شیئر کریں (3)

تبصرے (0)

شائع کردہ

✍️ Active Reporter ★★★★★

News Home

📍 Gorakhpur

📰 35 پوسٹ👁 2681 قارئین📊 76.6 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

مقبول ترین پوسٹس

علامہ اقبال اور اردو زبان کی ترویج

👁 538 ویوز

مدینہ یونیورسٹی میں 100 مصنفین کی کتابوں پر پابندی، فہرست میں پہلا نام مولانا ابوالحسن علی ندوی کا

👁 435 ویوز

اولاد کی تربیت شفقت و حکمت سے

👁 358 ویوز

شراب کے دینی و دنیوی نقصانات

👁 295 ویوز

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت!

👁 272 ویوز