تازہ ترین
• عرب ریڈنگ چیلنج: دنیا کا سب سے بڑا ادبی مقابلہ • کتاب حقیقۃ الفقہ: حدیث و فقہ کی تکمیلی حیثیت کو واضح کرتی ہے • حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہل بیت سے محبت اور رشتہ داریاں • مسلمان ایک جسم کے مانند ہے • تلنگانہ میں آئندہ ایم ایل سی انتخابات کے لیے 16 نومبر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں کراسکتے ہیں اندراج • پیارے کھڑگے جی! یہ کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ • انڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن ودربھ اسٹیٹ یونٹ کا اجلاس اختتام پذیر ہوا • گوونڈی میں یو سی سی پر میٹنگ اختتام پذیر • ہر ایک شخص وفادار ہو ضروری کیا • وزیرِ اعلیٰ کیرالا نے دارالہدیٰ سباق 2026 کی دعوت قبول کرلی، لوگو کی رونمائی

عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل کی ضرورت و اہمیت

📅 26-09-2026 👁 179 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 4 شیئر
مذہب و عقیدہ

از:محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤشریف، باڑمیر (راجستھان)

دنیا اس وقت جس فکری، اخلاقی، معاشرتی اور تہذیبی انتشار سے دوچار ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک انسانیت مختلف النوع فتنوں، ظلم و زیادتی، قتل و غارت گری، لوٹ مار، طبقاتی کشمکش اور رنگ و نسل کی بنیاد پر پھیلنے والی نفرتوں کی زد میں ہے۔ بظاہر انسان نے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، نت نئی ایجادات نے زندگی کو سہل اور آسائشوں سے آراستہ کر دیا ہے، لیکن افسوس کہ مادی ترقی کے اس سفر میں وہ اخلاق و کردار، انسانی ہمدردی، باہمی محبت، رواداری اور احترامِ انسانیت جیسی بنیادی اقدار سے دور ہوتا چلا گیا ہے۔
یہ صورتِ حال قرآنِ کریم کے اس ارشاد کی عملی تصویر معلوم ہوتی ہے:
"ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ"
ترجمہ: خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد ظاہر ہو گیا ہے۔(الروم: 41)
گویا انسان نے مادی ترقی کے چراغ تو روشن کر لیے، مگر اخلاقی و روحانی زندگی کو تاریکیوں کے حوالے کر دیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نے وسائل و ذرائع کی ترقی کو کامیابی کا معیار بنا لیا، لیکن اپنی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر سے غفلت برتی۔ چنانچہ تہذیب و تمدن کے خوش نما عنوانات کے تحت ایسے نظریات اور رجحانات فروغ پاتے رہے جنہوں نے انسانی اقدار کو کمزور اور معاشرتی زندگی کو انتشار کا شکار کر دیا۔
ایسے حالات میں ان افراد کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے جو انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات، بالخصوص خاتم النبیین حضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ ہدایت، امن و محبت اور اصلاحِ انسانیت کے علم بردار ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج امتِ مسلمہ کا ایک طبقہ وسائل کی کمی، مخالفانہ پروپیگنڈے، فکری یلغار اور نامساعد حالات سے متاثر ہو کر احساسِ کمتری اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ امتِ مسلمہ کا شیوہ مایوسی نہیں، بلکہ امید، حوصلہ، صبر، استقامت اور مسلسل جدوجہد ہونا چاہیے۔
قرآنِ کریم نے اہلِ ایمان کو واضح پیغام دیا ہے:"لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ"
ترجمہ: اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ (الزمر: 53)
یہ فقط تسلی کا ایک جملہ نہیں، بلکہ زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں امید و حوصلے کا عظیم دستور ہے۔ مسلمان کا ایمان اسے سکھاتا ہے کہ حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، مشکلات کے پہاڑ کتنے ہی بلند کیوں نہ دکھائی دیں، اسے اپنے مقصد سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ کامیابی صرف وسائل کی فراوانی سے نہیں، بلکہ مضبوط عزم، پختہ ارادے، درست حکمتِ عملی، مسلسل محنت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے سے حاصل ہوتی ہے۔

عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل ہی کامیابی کی کلید ہیں:

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں کوئی بڑا انقلاب، کوئی عظیم اصلاح اور کوئی پائیدار کامیابی صرف خواہشات، تمناؤں اور نعروں کے سہارے حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے لیے طویل جدوجہد، مسلسل محنت، صبر و استقامت، حکمت و تدبیر اور قربانیوں کی ضرورت پیش آئی ہے۔ بظاہر معمولی نظر آنے والی کوششیں جب تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہیں تو رفتہ رفتہ بڑے نتائج کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں۔ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے اور ایک ایک قدم اٹھانے سے طویل مسافت طے ہوتی ہے۔ اسی طرح افراد کی مخلصانہ کوششیں مل کر قوموں کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
عملِ پیہم سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد کے حصول کے لیے فقط وقتی جوش و جذبے پر اکتفا نہ کرے، بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے۔ اسی طرح جہدِ مسلسل کا تقاضا ہے کہ مشکلات، رکاوٹوں اور ناکامیوں کے باوجود جدوجہد کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا جائے۔ اس راہ میں کبھی رفتار کم ہو سکتی ہے، کبھی حالات کے مطابق طریقۂ کار تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن مقصد کی سچائی اور اس کے حصول کا عزم کمزور نہیں ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانی کوشش اور جدوجہد کا ایک بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ، وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ، ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ"
ترجمہ: اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی، اور یہ کہ اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ (النجم: 39-41)
ان آیاتِ کریمہ میں انسانی سعی، عمل اور جدوجہد کی اہمیت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیات ہمیں متوجہ کرتی ہیں کہ انسان کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے اور نیک مقاصد کے لیے بھرپور کوشش کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔ اس کی مخلصانہ کوشش اللہ تعالیٰ کے یہاں ضائع نہیں ہوتی، اگرچہ اس کے ظاہری نتائج ظاہر ہونے میں وقت لگ جائے۔ بسا اوقات ایک نسل کی محنت دوسری نسل کی کامیابی کا راستہ ہموار کرتی ہے اور آج بویا جانے والا بیج آنے والے کل میں تناور درخت بن کر سامنے آتا ہے۔
اسی حقیقت کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں بھی واضح فرمایا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ"
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیثِ مبارکہ عملِ پیہم اور مستقل مزاجی کی اہمیت کو نہایت واضح کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی جوش و جذبے کے تحت بہت زیادہ کام شروع کر دینا ہی اصل کمال نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان تھوڑا کام بھی کرے تو پابندی، اخلاص اور تسلسل کے ساتھ کرے۔ علم کا حصول ہو، عبادت ہو، دعوت و تبلیغ ہو، اصلاحِ معاشرہ ہو یا تعمیرِ ملت، ہر میدان میں مستقل مزاجی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

سیرتِ نبوی عملِ مسلسل کی روشن مثال:

اسلامی تاریخ عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل کی بے شمار مثالوں سے مزین ہے، لیکن ان سب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ سب سے روشن اور کامل نمونہ ہے۔حضورنبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ اسلام کا آغاز ایسے ماحول میں فرمایا جہاں شرک و بت پرستی، جہالت، قبائلی عصبیت اور اخلاقی پستی عام تھی۔ مخالفتوں کے طوفان اٹھے، آپ کو ایذائیں پہنچائی گئیں، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، معاشرتی بائیکاٹ کیا گیا اور بالآخر اپنے وطن سے ہجرت کرنا پڑی؛ لیکن ان تمام آزمائشوں کے باوجودحضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ حق کا سلسلہ منقطع نہیں فرمایا۔
طائف کا واقعہ اس سلسلے میں نہایت سبق آموز ہے۔ جب حضور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم دعوتِ اسلام کے لیے طائف تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے نہ صرف دعوت قبول کرنے سے انکار کیا، بلکہ انتہائی بے رحمی کے ساتھ آپ کو تکلیف پہنچائی۔ اس نازک موقع پر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مایوسی اور انتقام کے بجائے امید، رحمت اور خیر خواہی کا راستہ اختیار فرمایا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عظیم مقاصد کے حصول میں وقتی ناکامی یا مخالفت سے گھبرا کر میدان چھوڑ دینا اہلِ عزم کا شیوہ نہیں۔
اسی طرح ہجرتِ مدینہ کا واقعہ صرف قربانی اور صبر ہی نہیں، بلکہ حکمت، تدبیر، منصوبہ بندی اور اسباب اختیار کرنے کی بھی عظیم مثال ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہجرت کے لیے مناسب وقت، راستے، رفیقِ سفر اور دیگر ضروری انتظامات کا اہتمام فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کرتے ہوئے سفر اختیار کیا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کامیابی کے لیے صرف جذبہ کافی نہیں، بلکہ جذبے کے ساتھ صحیح منصوبہ بندی، حکمتِ عملی اور جائز وسائل کا استعمال بھی ضروری ہے۔
بالآخر مسلسل دعوت، بے مثال صبر، حکمت و بصیرت اور استقامت کے نتیجے میں ایسا عظیم انقلاب برپا ہوا جس نے نہ صرف عرب کی سرزمین بلکہ پوری دنیا کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ یہی وہ اسوہ ہے جس سے آج امتِ مسلمہ کو رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

جہدِ مسلسل کے بنیادی تقاضے:
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مسلسل جدوجہد کا مطلب محض بھاگ دوڑ، بے مقصد مصروفیت یا بغیر سوچے سمجھے کام کرتے رہنا نہیں، بلکہ مقصد کے تعین سے لے کر اس کے حصول تک ایک منظم، بامقصد اور حکیمانہ سفر جاری رکھنا ہے۔ اس کے لیے چند بنیادی اصولوں کو پیشِ نظر رکھنا ناگزیر ہے۔

(1) مقصد کا تعین اور اس پر یکسوئی:

کامیابی کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے مقصد کو اچھی طرح پہچانے۔ جس شخص کو اپنی منزل کا تعین ہی نہ ہو، اس کی محنت اکثر منتشر ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں، حالات اور ذمہ داریوں کے مطابق واضح اور بامقصد اہداف مقرر کرے اور پھر پوری یکسوئی کے ساتھ ان کے حصول میں مصروف ہو۔

(2) علم، حکمت اور منصوبہ بندی:

صرف جذبہ اور جوش ہر کام کی تکمیل کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ کسی بھی میدان میں کامیابی کے لیے علم، تجربہ، حکمت اور مناسب منصوبہ بندی ضروری ہے۔ جو لوگ بغیر سوچے سمجھے کام شروع کر دیتے ہیں، وہ اکثر اپنی توانائیاں ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے برعکس جو افراد حالات کا جائزہ لے کر، وسائل کو سامنے رکھ کر اور ممکنہ رکاوٹوں کا اندازہ لگا کر قدم اٹھاتے ہیں، ان کی کوششیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں۔

(3) صبر و استقامت اور مستقل مزاجی:

ہر کامیابی کے راستے میں آزمائشیں اور رکاوٹیں آتی ہیں۔ کبھی حالات موافق ہوتے ہیں اور کبھی انسان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مواقع پر صبر، حوصلہ اور ثابت قدمی ہی انسان کو منزل کی طرف بڑھاتے ہیں۔ وقتی ناکامی کو آخری شکست سمجھ لینا کم ہمتی ہے، جب کہ ناکامی سے سبق حاصل کرکے دوبارہ کوشش کرنا کامیابی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

(4) نظم و ضبط اور وقت کی قدر:

عملِ پیہم کا ایک اہم تقاضا نظم و ضبط ہے۔ جو شخص اپنے وقت، صلاحیتوں اور وسائل کو منظم نہیں کرتا، اس کی محنت اکثر مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر پاتی۔ کامیاب افراد اپنے اوقات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، ذمہ داریوں کو ترجیح دیتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کرکے انہیں باقاعدگی سے پورا کرتے ہیں۔ درحقیقت وقت کی قدر اور کام میں پابندی ہی مستقل جدوجہد کو نتیجہ خیز بناتی ہے۔

(5) اخلاص، توکل اور احتسابِ نفس:

مسلمان کی جدوجہد کا مقصد صرف دنیاوی مفادات کا حصول نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، حق کی سربلندی اور مخلوقِ خدا کی بھلائی بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ارادوں کو اخلاص سے آراستہ کرے، جائز اسباب اختیار کرے، اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیتا رہے اور نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کرے۔ یہی وہ توازن ہے جو عمل کو عبادت اور جدوجہد کو بامقصد بناتا ہے۔

موجودہ حالات اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں:

موجودہ دور میں اسلام مخالف طاقتیں مختلف ذرائع ابلاغ، فکری تحریکوں اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے مسلمانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور ان کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کبھی مسلمانوں کی معاشی کمزوری کو ان کے دین سے جوڑا جاتا ہے، کبھی دنیا کے مختلف خطوں میں ان کی زبوں حالی کو بنیاد بنا کر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر مسلمان حق پر ہیں تو پھر وہ مشکلات اور محرومیوں سے دوچار کیوں ہیں؟
قرآنِ کریم نے مخالفین کی طعنہ زنی اور تمسخر آمیز رویوں کے حوالے سے اہلِ ایمان کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:"فَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ"
ترجمہ: تو ان کی بات تمہیں غمگین نہ کرے، بے شک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ (یٰسین: 76)
اس آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کے لیے یہ پیغام بھی ہے کہ مخالفین کی باتوں، اعتراضات اور منفی پروپیگنڈے سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔ البتہ اس کے ساتھ اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا اور ان کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ پسماندگی اور کمزوریوں کا علاج دین سے دوری، احساسِ شکست یا دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے میں نہیں، بلکہ تعلیم و تربیت، علمی بیداری، کردار سازی، معاشی خود کفالت، اتحاد، خود اعتمادی اور مسلسل جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ باہمی انتشار، گروہ بندی، وقت کی ناقدری، تعلیمی پسماندگی اور منصوبہ بندی کے فقدان نے بھی ہماری اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔ ان خامیوں کو دور کیے بغیر ترقی اور سربلندی کی امید رکھنا محض خوش فہمی ہوگی۔
لہٰذا آج امتِ مسلمہ کے ہر فرد کو اپنی صلاحیت، استعداد اور دائرۂ کار کے مطابق اصلاح و تعمیر کے میدان میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ علماء و مشائخ اپنی علمی و دعوتی ذمہ داریاں ادا کریں، اساتذہ نسلِ نو کی فکری و اخلاقی تربیت پر توجہ دیں، والدین اپنی اولاد کے ایمان و کردار کی حفاظت کریں، اہلِ قلم اپنی تحریروں کے ذریعے فکری بیداری پیدا کریں، نوجوان اپنی صلاحیتوں کو علم، تحقیق، ہنر اور تعمیری مقاصد کے لیے وقف کریں اور صاحبِ ثروت افراد تعلیم و فلاح کے منصوبوں میں اپنا حصہ ادا کریں۔ غرض یہ کہ کوئی بھی شخص اپنی ذمہ داری سے سبک دوش نہیں ہو سکتا۔
خصوصاً نوجوان نسل کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قوموں کا مستقبل صرف جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ علم، کردار، محنت اور عملی صلاحیتوں سے تعمیر ہوتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ وقت کی قدر کریں، جدید علوم و فنون میں مہارت حاصل کریں، اپنی تہذیبی و دینی شناخت کی حفاظت کریں اور اپنی صلاحیتوں کو ملت و انسانیت کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں۔ آج کی محنت، کل کی قیادت کی بنیاد بنتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف حالات کا رونا رونے، دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے اور ماضی کی عظمت کے قصے دہرانے سے مستقبل روشن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اپنی صفوں میں اخلاص، اتحاد، نظم و ضبط، علم و عمل اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا ہوگا۔ اپنے کردار کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کا آئینہ دار بنانا ہوگا، تاکہ ہمارا وجود خود دین کی دعوت اور انسانیت کے لیے پیغامِ محبت بن جائے۔
قرآنِ کریم نے اس سلسلے میں ایک نہایت بنیادی اصول بیان فرمایا ہے:"إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ"
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ (الرعد: 11)
یہ آیتِ کریمہ ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ اصلاح اور تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے ہونا چاہیے۔ جب افراد اپنی فکر، کردار، عادات اور ترجیحات کو درست کرتے ہیں تو معاشرے میں اصلاح کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ قوموں کی تعمیر فقط نعروں سے نہیں، بلکہ کردار، محنت، علم، قربانی اور مسلسل عملی جدوجہد سے ہوتی ہے۔

کامیابی کے لیے کوشش اور اللہ کی نصرت پر یقین:

یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مسلسل جدوجہد کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صرف اپنی محنت پر بھروسہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے غافل ہو جائے۔ اسلام ہمیں کوشش اور توکل کا حسین امتزاج سکھاتا ہے۔ انسان اپنی استطاعت کے مطابق بہترین منصوبہ بندی کرے، جائز وسائل اختیار کرے، پوری دیانت داری سے محنت کرے اور پھر اپنے نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے۔
اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو ایک عظیم وعدہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:"إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ"
ترجمہ: اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔ (محمد: 7)
یہ وعدۂ الٰہی اہلِ ایمان کے لیے قوتِ امید اور سرمایۂ استقامت ہے۔ تاہم اس نصرتِ الٰہی کے حصول کے لیے ایمان کی پختگی، دین پر استقامت، اخلاصِ عمل، اطاعتِ الٰہی اور عملی جدوجہد ناگزیر ہیں۔ ہمیں اپنے اعمال، نیتوں اور اجتماعی رویوں کا جائزہ لیتے ہوئے دین کی سربلندی اور مخلوقِ خدا کی بھلائی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
مشکلات اور نامساعد حالات کسی قوم کی ناکامی کا حتمی اعلان نہیں ہوتے، بلکہ بسا اوقات یہی حالات اس کی صلاحیتوں کو بیدار کرنے، عزم کو مضبوط بنانے اور نئی راہیں تلاش کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ قوم مایوسی کے بجائے امید، بے عملی کے بجائے عمل اور انتشار کے بجائے اتحاد و نظم کا راستہ اختیار کرے۔ جو قوم اپنی کمزوریوں کو پہچان کر ان کی اصلاح کا عزم کر لیتی ہے، وہ بتدریج ترقی اور کامیابی کی منزلیں طے کر سکتی ہے۔
شاعرمشرق ڈاکٹر اقبال نے اسی بلند ہمتی اور مسلسل آگے بڑھنے کے جذبے کو ان الفاظ میں پیش کیا ہے:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی ایک منزل پر پہنچ کر رک جانا اہلِ عزم کا شیوہ نہیں؛ بلکہ ہر کامیابی کے بعد نئے مقاصد، نئی ذمہ داریاں اور نئی منزلیں انسان کی منتظر ہوتی ہیں۔

عزمِ نو اور پیغامِ عمل:

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر عزم و عمل کی شمع روشن کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنے وسائل کو منظم کریں اور اپنے حصے کی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کریں۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ حالات کی سنگینی، وسائل کی قلت اور مخالفتوں کی شدت ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کر سکے گی۔ ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل کو شعار بنائیں گے اور اصلاحِ معاشرہ، تعمیرِ ملت، تحفظِ ایمان، فروغِ علم اور خدمتِ انسانیت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
یاد رکھیے! کامیابی ہمیشہ فوری نتائج کا نام نہیں۔ کبھی محنت کے باوجود مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے، کبھی راستے بدلنے پڑتے ہیں اور کبھی ناکامیوں سے گزر کر کامیابی کا دروازہ کھلتا ہے۔ لیکن جو لوگ اپنے مقصد سے مخلص، اپنے ارادے میں پختہ اور اپنی جدوجہد میں ثابت قدم رہتے ہیں، ان کی کوششیں بالآخر کسی نہ کسی صورت میں ثمرآور ہوتی ہیں۔
لہٰذا ہمیں خواہشات کو عمل میں، ارادوں کو منصوبوں میں اور منصوبوں کو مسلسل جدوجہد کے ذریعے حقیقت میں بدلنے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔ اپنی کوششوں کو وقتی جوش کے بجائے مستقل مزاجی، بے ترتیب مصروفیت کے بجائے منظم منصوبہ بندی اور محض دعووں کے بجائے عملی کردار سے آراستہ کرنا ہوگا۔
بلاشبہ آج کی مخلصانہ کوششیں کل کی روشن صبح کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہمارے قدم رکنے نہ پائیں، ہمارے حوصلے ٹوٹنے نہ پائیں اور ہمارے عزم و استقلال میں کمزوری نہ آنے پائے۔
کیوں کہ قوموں کی تقدیر صرف تمناؤں اور آرزوؤں سے نہیں بدلتی، بلکہ اس کے لیے پختہ عزم، صحیح حکمتِ عملی، مسلسل جدوجہد، بے لوث قربانی اور عملِ پیہم درکار ہوتا ہے۔

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (4)

تبصرے (0)

شائع کردہ

✍️ Active Reporter ★★★★★

Mohd Shuaib Raza

📍 گورکھ پور

📰 25 پوسٹ👁 1336 قارئین📊 53.4 اوسط قارئین

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ایک نوجوان مصنف، قلم کار، صحافی اور باصلاحیت عالم دین ہیں۔ دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔

اسی زمرے میں مزید

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہل بیت سے محبت اور رشتہ داریاں

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی!

ٹھکرادو یا سنواردو

مقبول ترین پوسٹس

علامہ اقبال اور اردو زبان کی ترویج

👁 538 ویوز

مدینہ یونیورسٹی میں 100 مصنفین کی کتابوں پر پابندی، فہرست میں پہلا نام مولانا ابوالحسن علی ندوی کا

👁 435 ویوز

اولاد کی تربیت شفقت و حکمت سے

👁 358 ویوز

شراب کے دینی و دنیوی نقصانات

👁 295 ویوز

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت!

👁 272 ویوز