لگتا ہے انڈیا میں سمویدھان نہيں ہے
ہم نے تو سنا تھا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے جہاں ہر مذہب کو برابر احترام ملتا ہے، قانون سب کے لیے یکساں ہے، اور جمہوریت کی حکمرانی چلتی ہے، مگر آج کے اس ماحول کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ایک ڈکٹیٹرشپ ہے جہاں ریپ کرنے والے مجرم آزاد گھومتے ہیں، چھوٹی بچیوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو سزا کا سایہ بھی نہیں، پارلیمنٹ مذہبی جھگڑوں کا بازار بن گئی ہے، قانون کو نظر انداز کر کے حکمران من مانی کرتے ہیں، کبھی ارے ول ختم کر نے کی بات چل رہی ہے ۔ ہندوستان کا آئین جو 26 جنوری 1950 کو نافذ ہوا دنیا کا سب سے لمبا تحریری آئین ہے جس میں 395 آرٹیکلز اور 12 شیڈولز شامل ہیں اور اس کا پریامبل واضح اعلان کرتا ہے کہ یہ ایک سوورین، سوشلسٹ، سیکولر، ڈیموکریٹک ریپبلک ہے جہاں آرٹیکل 14 قانون کے سامنے برابری، آرٹیکل 21 زندگی اور ذاتی آزادی کا حق، آرٹیکل 32 آئینی حقوق کی حفاظت، اور آرٹیکل 25 سے 28 تک مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ 42ویں ترمیم نے 1976 میں 'سیکولر' اور 'سوشلسٹ' الفاظ شامل کیے تاکہ کوئی ابہام نہ رہے، مگر آج 75 سال بعد جب NCRB 2024 کی رپورٹ ہر روز 86 ریپ کیسز اور 2025 کے پہلے 9 مہینوں میں 25 ہزار سے زائد واقعات بتاتی ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ آئین زندہ ہے یا حکمرانوں کی مرضی کا غلام بن چکا ہے۔
حالیہ ریپ کیسز نے پورے ملک کو ہلا دیا ہے جہاں دہلی کا جون 2025 کا 6 سالہ بچی کا کیس دیکھیں تو ملزم محلے کا ہی رہائشی تھا جو گرفتار تو ہوا مگر ہائی کورٹ نے فوری ضمانت دے دی کیونکہ 'کوئی ٹھوس ثبوت نہیں' اور والدین آج بھی رو رہے ہیں جبکہ اننت ناگ کشمیر کا اپریل 2025 کا 3 سالہ بچی کا ریپ کیس میں ملزم گرفتار ہوا مگر اسپیشل POCSCO کورٹ میں سماعت 6 ماہ سے پینڈنگ ہے اور والدہ کی سپریم کورٹ اپیل ابھی انتظار میں ہے۔ پونڈیچری یونیورسٹی کا مارچ 2025 کا سکینڈل تو اور بھی شرمناک ہے جہاں طالب علم نے 19 سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ کیا، ویڈیو وائرل ہوئی مگر سیشن کورٹ نے سیاسی دباؤ میں ضمانت دے دی۔ IPC سیکشن 375-376 ریپ کی سزا 10 سال سے عمر قید تک تجویز کرتا ہے جبکہ POCSCO ایکٹ 2012 بچیوں کے لیے تیز سماعت اور موت کی سزا کا راستہ کھولتا ہے اور 2023 کی ترمیم نے کم از کم سزا 10 سال مقرر کی مگر سپریم کورٹ کے 2024 کے کسوگان کیس میں عدالتی بیک لاگ کو تنقید کا نشانہ بنایا جہاں 4.7 کروڑ کیسز پڑے ہیں جن میں 1.2 کروڑ جنسی جرائم شامل ہیں اور پولیس 90 فیصد کیسز میں FIR تک رجسٹر نہیں کرتی۔ سیاسی رہنما ملزمان کی حمایت کرتے ہیں جیسے UP کے ایک MLA نے کہا 'غلطی ہو جاتی ہے' اور ججوں پر دباؤ آرٹیکل 39A کی مفت قانونی امداد کو نظر انداز کر دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجرم آزاد گھومتے ہیں اور بچیاں غیر محفوظ ہیں۔
پارلیمنٹ جو آرٹیکل 79 کے تحت قانون سازی کا اعلیٰ ادارہ ہے اب مذہبی تنازعات کا مرکز بن چکی ہے جہاں 2025 کی ونٹر سیشن میں BJP MP وجے شنکر ای آئی کا 'ووٹ جی ہندوستان' نعرہ اپوزیشن کے احتجاج پر سیشن 3 دن بند رہا اور راجستھان اسمبلی میں ہندو-مسلم بحثوں نے 5 بل روک دیے جبکہ سپیکر نے مائیک بند کر دیے اور لوک سبھا میں MC پر سماج وادی پارٹی اراکین کے مبینہ حملے نے 12 اراکین کو معطل کر دیا۔ پریامبل کا سیکولر حصہ ریاست کو مذہب سے الگ رکھتا ہے جہاں آرٹیکل 25 مذہبی آزادی دیتا ہے مگر آرٹیکل 19(2) نفرت پھیلانے والی تقریر پر پابندی لگاتا ہے اور سپریم کورٹ نے شریا وادا کیس 2024 میں واضح کیا کہ سیکولرزم آئین کی بنیادی ساخت ہے مگر یہ جھگڑے مہنگائی جو 8.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے، بے روزگاری 8.1 فیصد، اور غربت 21 فیصد جیسے قومی مسائل کو دبا دیتے ہیں اور سپیکر جو حکومت کی طرفدار ہوتا ہے بحث روکتا ہے اور اپوزیشن کو معطل کرتا ہے جو آرٹیکل 105 کی اراکین کی آزادی کی خلاف ورزی ہے جس سے پارلیمنٹ 'ربڑ کی مہر' بن گئی ہے۔
حکومت کی پالیسیاں آئین کو براہ راست چیلنج کر رہی ہیں جہاں آیوشمن بھارت جو 2018 میں لانچ ہوا تھا غریبوں کو 5 لاکھ روپے تک مفت علاج دیتا تھا اور آرٹیکل 47 کی صحت کی بہتری پر مبنی تھا جس نے 2023 تک 6 کروڑ علاج کروائے مگر 2025 کے بجٹ میں 40 فیصد کٹ، ہسپتالوں سے ہٹانا، اور نافذ نہ کرنے سے اب صرف 20 فیصد کوریج رہ گئی ہے اور غریب کینسر اور دل کی بیماریوں میں مر رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کی 2025 کی پٹیشن میں بحالی کا حکم دیا گیا مگر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ بلڈنگ ڈیمولیشن ڈرائیو تو اور بھی ظالمانہ ہے جہاں 2024-25 میں UP، دہلی، مہاراشٹرا میں 50 ہزار سے زائد گھر 'انکارشیل' کے نام پر توڑے گئے جیسے دہلی کے جہانگیر پوری میں 2022 سے جاری مہم 2025 میں دوبارہ شروع ہوئی اور UP میں 10 ہزار گھر بغیر نوٹس کے تباہ ہوئے جو آرٹیکل 300A کے جائیداد کے حق اور آرٹیکل 14 کی برابری کی خلاف ورزی ہے اور سپریم کورٹ نے 2024 کے جے پی پریمیس کیس میں 'بلڈوزر جسٹس' روکنے کا حکم دیا مگر یہ جاری ہے جبکہ طاقتوروں کے محلات محفوظ رہتے ہیں اور غریب سڑکوں پر آ جاتے ہیں اور 2025 میں پیسے کے نام پر اربوں کی جائیداد ضبط ہوئی بغیر معاوضے کے۔
اتنا سب ہونے کے باوجود بھی حکومت کے سات کورٹ کے جج بھی اس طرح سے خاموش ہے جیسے ہندوستان میں کوآئین ہی نہیں ہے ایسا لگتا ہے کہ اب ہندوستا ن بھی ایک دن کوریہ کی طرح ہوگا اور یہ بات تو طے ہے 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے لئے جو لڑائی لڑی گئي تھی وہ اصل لڑائي نہیں تھی کیوں کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی جس ملک میں امن و سکون کا سایہ نہ ہو وہاں کے رہنے والے دیس واسی خود کو آزاد کیسے محسوس کر سکتے ہیں ۔ آج اگر ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو آواز اٹھانے والے کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے کیا ہندوستا ن کا آئين یہی کہتا ہے ۔ آج ہندوستان کا دستور ان غداروں کے ہاتھ میں جو اپنے ملک میں رہنے والے تمام دیس واسیں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اب ہندوستان میں کوئي آئین نہیں رہا اور ہمیں کسی آئین کی ضرورت نہیں ہے۔
از قلم : مرزا بشارت کریم ( جامعہ دارالہدی اسلامیہ )
تبصرے (0)
شائع کردہ
محمد شعیب رضا نظامی فیضی ایک نوجوان مصنف، قلم کار، صحافی اور باصلاحیت عالم دین ہیں۔ دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔
اسی زمرے میں مزید

عرب ریڈنگ چیلنج: دنیا کا سب سے بڑا ادبی مقابلہ

جمہوریت اور انتخابی شفافیت کا علمبردار: راہل گاندھی کا بدلتا ہوا سیاسی چہرہ





