تازہ ترین
• عرب ریڈنگ چیلنج: دنیا کا سب سے بڑا ادبی مقابلہ • کتاب حقیقۃ الفقہ: حدیث و فقہ کی تکمیلی حیثیت کو واضح کرتی ہے • حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہل بیت سے محبت اور رشتہ داریاں • مسلمان ایک جسم کے مانند ہے • تلنگانہ میں آئندہ ایم ایل سی انتخابات کے لیے 16 نومبر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں کراسکتے ہیں اندراج • پیارے کھڑگے جی! یہ کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ • انڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن ودربھ اسٹیٹ یونٹ کا اجلاس اختتام پذیر ہوا • گوونڈی میں یو سی سی پر میٹنگ اختتام پذیر • ہر ایک شخص وفادار ہو ضروری کیا • وزیرِ اعلیٰ کیرالا نے دارالہدیٰ سباق 2026 کی دعوت قبول کرلی، لوگو کی رونمائی

حسد:ایک تباہ کن نفسیاتی مرض

📅 27-09-2026 👁 269 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 4 شیئر
مضامین

اسباب و محرکات، دینی و اخلاقی نقصانات اور اس کے انسداد کا مؤثر لائحۂ عمل

از:محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤشریف، باڑمیر(راجستھان)

انسانی شخصیت کی تعمیر و تخریب میں جہاں بہت سے ظاہری عوامل کارفرما ہوتے ہیں، وہیں بعض باطنی کیفیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو انسان کے پورے وجود کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ ان میں ایک نہایت خطرناک، مہلک اور تباہ کن بیماری حسد ہے۔ یہ فقط دل کی ایک ناگوار کیفیت یا کسی کی ترقی پر وقتی ناگواری کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا نفسیاتی اور اخلاقی مرض ہے جو انسان کے سکونِ قلب، پاکیزہ کردار، حسنِ معاشرت اور روحانی زندگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ حسد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی آگ میں سب سے پہلے خود حاسد کا اپنا وجود جلتا ہے، جب کہ جس شخص کے خلاف اس کے دل میں حسد کی چنگاری سلگ رہی ہوتی ہے، وہ بسا اوقات اس کی کیفیت سے بے خبر اپنی زندگی کے معمولات میں مصروف رہتا ہے۔

حسد کیا ہے؟ اس کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت:

حسد کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ کسی دوسرے شخص کو حاصل شدہ نعمت، فضیلت، کامیابی، عزت، شہرت، دولت، علم، صلاحیت یا مقبولیت دیکھ کر دل میں جلن پیدا ہو اور یہ خواہش جنم لینے لگے کہ اس سے یہ نعمت چھن جائے، خواہ خود حاسد کو وہ نعمت حاصل ہو یا نہ ہو۔
دوسرے لفظوں میں، کسی کی خوش حالی کو اپنی بدحالی، کسی کی کامیابی کو اپنی ناکامی اور کسی کی مقبولیت کو اپنی محرومی سمجھنے کا نام حسد ہے۔
یہ کیفیت اس وقت مزید خطرناک ہوجاتی ہے جب انسان دوسرے کی نعمت کے زوال کی تمنا سے آگے بڑھ کر اس کے لیے سازشیں کرنے، کردار کشی کرنے، اس کی کامیابیوں کو مشکوک بنانے، عزت مجروح کرنے اور اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے لگتا ہے۔
یاد رکھیے! حسد کرنے والا درحقیقت کسی دوسرے انسان ہی سے نہیں، بلکہ اس نعمت کی عطا پر بھی دل میں تنگی محسوس کر رہا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و مشیت سے اس کے حصے میں نہیں رکھا۔ گویا وہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر ناخوشی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے، حالاں کہ نعمتوں کی تقسیم کا اختیار صرف اسی ذاتِ باری تعالیٰ کے پاس ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾
ترجمہ: کیا یہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے؟ (النساء: 54)
یہ آیت کریمہ حسد کی حقیقت پر نہایت واضح روشنی ڈالتی ہے کہ دوسروں کو حاصل ہونے والے فضلِ الٰہی پر جلنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عطا پر اعتراض کی ایک نہایت قبیح صورت ہے۔

حاسد اور محسود: ایک عجیب نفسیاتی رشتہ

حاسد اور محسود کا رشتہ بظاہر عداوت، رقابت اور مخالفت پر مبنی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس تعلق کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک باصلاحیت انسان اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتا۔ وہ اپنی قابلیت کو معمولی سمجھ کر اس کی قدر نہیں کرتا، لیکن جب کوئی حاسد اس کی خوبیوں کا انکار کرتا، اس کی کامیابیوں کو کم تر دکھاتا اور اس کی شخصیت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اسے اپنی صلاحیتوں کی اہمیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔
وہ اپنی خفتہ قوتوں کو بیدار کرتا، کمزوریوں کو دور کرتا اور پہلے سے زیادہ محنت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اس طرح کبھی کبھی مخالف کی بے جا تنقید بھی محسود کے لیے خود احتسابی اور بیداری کا محرک بن جاتی ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ حاسد کی بدخواہی کوئی احسان نہیں، بلکہ محسود کی ترقی اس کے اپنے عزم، محنت، صبر اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ صاحبِ بصیرت انسان مخالفت سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے اسے اپنی اصلاح اور مضبوطی کا ذریعہ بناتا ہے۔ یہی بلند ظرفی اور کامیاب شخصیتوں کا امتیازی وصف ہے۔

حاسد کا رویہ: صلاحیتوں اور مقبولیت کا ایک ممکنہ پیمانہ

بعض اوقات حاسد کا رویہ انسان کی صلاحیتوں اور مقبولیت کے بارے میں ایک غیر معمولی نفسیاتی اشارہ فراہم کرتا ہے۔ وہ آپ کی خوبیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ان میں عیب تلاش کرتا، کامیابی کو اتفاق قرار دیتا، کارناموں کو معمولی ثابت کرنے کی کوشش کرتا اور عزت و مقبولیت سے بے چین دکھائی دیتا ہے۔
بسا اوقات انسان کی وہ خوبیاں جنہیں وہ خود معمولی سمجھتا ہے، دوسروں کی نگاہ میں بہت اہم ہوتی ہیں۔ کسی کی مسلسل مخالفت، بے جا تنقید اور غیر معمولی ناگواری بھی کبھی اس بات کی علامت بن سکتی ہے کہ اس کی شخصیت میں کوئی ایسی خوبی موجود ہے جسے مخالف برداشت نہیں کر پا رہا۔
لیکن یہاں ایک ضروری وضاحت بھی ہے: ہر تنقید حسد نہیں ہوتی، ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا اور ہر مخالف بدخواہ نہیں ہوتا۔ کبھی مخلص انسان بھی ہماری اصلاح کے لیے ہماری غلطیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس لیے کسی کی تنقید کو فوراً حسد قرار دینے کے بجائے اس کے مقصد، انداز اور طرزِ عمل کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے۔
عقلمند وہ ہے جو مخلصانہ تنقید سے اپنی اصلاح کرے اور حاسدانہ مخالفت سے متاثر ہوئے بغیر اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہے۔

حسد:ایک ایسی سزا جو انسان خود اپنے لیے منتخب کرتا ہے

دنیا میں بہت سے گناہوں اور برائیوں کے اثرات کسی نہ کسی وقت انسان کے سامنے آتے ہیں، لیکن حسد کی اذیت اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس کا شکار شخص اپنی زندگی کے بیشتر لمحات دوسروں کی خوش حالی سے پریشان رہتا ہے۔
اسے کسی دوسرے کی خوشی اپنی پریشانی، کسی کی ترقی اپنی محرومی، کسی کی عزت اپنی توہین اور کسی کی کامیابی اپنی شکست محسوس ہوتی ہے۔ صبح اٹھتا ہے تو کسی کی ترقی کا خیال اسے بے چین کرتا ہے، دن گزارتا ہے تو کسی کی مقبولیت اسے پریشان رکھتی ہے اور رات آتی ہے تو کسی کی خوش حالی کا تصور اس کی نیند اڑا دیتا ہے۔
دنیا میں نعمتیں بے شمار ہیں۔ کسی کے پاس علم ہے، کسی کے پاس دولت؛ کسی کو عزت ملی ہے، کسی کو شہرت؛ کوئی حسنِ اخلاق میں ممتاز ہے، کوئی صلاحیتوں میں نمایاں؛ کسی کو اولاد کی خوشیاں حاصل ہیں تو کسی کو منصب و اقتدار نصیب ہے۔
اب ذرا اس شخص کا تصور کیجیے جسے ہر دوسرے انسان کی خوش حالی سے تکلیف پہنچتی ہو۔ ظاہر ہے کہ اس کے غموں کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا، کیوں کہ دنیا میں نعمتیں ختم ہونے والی نہیں اور حاسد کی نگاہ بھی دوسروں کی نعمتوں سے ہٹنے والی نہیں۔
اس طرح وہ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ایسی چیزوں کے غم میں گزار دیتا ہے جو نہ اس کی ملکیت تھیں، نہ اس کے اختیار میں تھیں اور نہ ہی ان کے چھن جانے سے اسے کوئی حقیقی فائدہ پہنچنے والا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ حاسد دوسرے کی نعمت چھیننے کی آرزو میں اپنی نعمتوں کا لطف بھی کھو دیتا ہے۔

حسد کے اسباب: دل میں یہ آگ کیوں بھڑکتی ہے؟

حسد اچانک پیدا ہونے والی کیفیت نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی نفسیاتی اور اخلاقی اسباب کارفرما ہوتے ہیں۔ اگر ان اسباب کی شناخت کرلی جائے تو اس مرض کے علاج میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔

1۔ احساسِ کمتری: بعض لوگ اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ہر وقت دوسروں سے اپنا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ جب انہیں کوئی شخص اپنے سے آگے نظر آتا ہے تو ان کے اندر احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے، جو رفتہ رفتہ حسد کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

2۔ حبِ جاہ اور شہرت طلبی: بعض افراد چاہتے ہیں کہ ہر جگہ انہی کا نام ہو، انہی کی تعریف کی جائے اور ہر محفل میں انہی کو فوقیت حاصل رہے۔ جب کسی دوسرے کو عزت، شہرت یا مقبولیت ملتی ہے تو ان کے لیے اسے برداشت کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔

3۔ تکبر اور خود پسندی: متکبر انسان دوسروں کو اپنے برابر یا اپنے سے بہتر دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ اسے یہ گوارا نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے کو ایسی فضیلت حاصل ہو جس سے وہ خود محروم ہے۔

4۔ دنیا کی محبت اور حرص: مال، منصب، شہرت اور دنیاوی آسائشوں کی غیر معمولی محبت بھی حسد کا ایک بڑا سبب ہے۔ انسان جب دنیا کو زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لیتا ہے تو دوسروں کی ترقی اسے اپنی محرومی محسوس ہونے لگتی ہے۔

5۔ بے جا مسابقت: صحت مند مقابلہ انسان کو محنت اور ترقی کی طرف لے جاتا ہے، لیکن جب مقابلہ آرائی میں اخلاص ختم ہوجائے اور مقصد دوسرے کو نیچا دکھانا بن جائے تو یہی جذبہ حسد میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

6۔ بدگمانی اور باہمی عداوت: بعض اوقات پرانی رنجشیں، ذاتی اختلافات اور بے بنیاد بدگمانیاں بھی حسد کی آگ کو ہوا دیتی ہیں۔ انسان کسی سے اس قدر بدظن ہوجاتا ہے کہ اس کی ہر کامیابی اسے ناگوار گزرنے لگتی ہے۔

حسد کے دینی، اخلاقی اور معاشرتی نقصانات:

حسد صرف ایک فرد کی ذاتی پریشانی نہیں، بلکہ یہ پورے معاشرے کے اخلاقی اور اجتماعی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے چند نمایاں نقصانات درج ذیل ہیں:

1۔ اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے ناخوشی: حسد انسان کو اس خطرناک کیفیت میں مبتلا کردیتا ہے کہ وہ دوسروں کو حاصل ہونے والے فضلِ الٰہی پر دل میں تنگی محسوس کرنے لگتا ہے، حالاں کہ اللہ تعالیٰ حکیم و علیم ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کس بندے کو کیا عطا کرنا مناسب ہے۔

2۔ دل کی روحانی پاکیزگی متاثر ہونا: حسد دل میں کینہ، بغض اور عداوت پیدا کرتا ہے۔ یہ باطنی بیماریاں انسان کی روحانی پاکیزگی کو متاثر کرتی ہیں اور عبادات میں خشوع و خضوع کی کیفیت کمزور کردیتی ہیں۔

3۔ غیبت، بہتان اور کردار کشی: حاسد اکثر محسود کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کی غیبت کرتا، اس پر جھوٹے الزامات لگاتا، اس کی خوبیوں کو چھپاتا اور اس کے عیوب کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ یوں ایک باطنی بیماری کئی ظاہری گناہوں کا دروازہ کھول دیتی ہے۔

4۔ رشتوں اور تعلقات کی تباہی: حسد بھائی کو بھائی سے، دوست کو دوست سے، پڑوسی کو پڑوسی سے اور بعض اوقات اہلِ خاندان کو ایک دوسرے سے دور کردیتا ہے۔ جس گھر میں ایک دوسرے کی خوشی پر خوش ہونے کا جذبہ ختم ہوجائے، وہاں محبت اور سکون باقی نہیں رہ سکتا۔

5۔ اجتماعی ترقی میں رکاوٹ: حسد کا شکار شخص دوسروں کی کامیابی میں تعاون کرنے کے بجائے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ اس طرح ادارے، تنظیمیں، تعلیمی مراکز اور سماجی تحریکیں باہمی انتشار کا شکار ہوجاتی ہیں۔

6۔ ذہنی سکون کا خاتمہ: حاسد ہر وقت دوسروں کے حالات پر نظر رکھتا ہے۔ کون آگے بڑھا؟ کس کی تعریف ہوئی؟ کس کی آمدنی بڑھی؟ کس کا نام مشہور ہوا؟ اس مسلسل ذہنی مشغولیت کے نتیجے میں وہ اپنے کام، فرائض اور اپنی زندگی کی بہتری سے غافل ہوجاتا ہے۔

7۔ اخروی خسارے کا اندیشہ: حسد جب غیبت، بہتان، ظلم، حق تلفی اور قطع تعلقی کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو انسان کے لیے شدید اخروی خسارے کا سبب بن جاتا ہے۔ حقوق العباد کی پامالی کے نتیجے میں قیامت کے دن نیکیوں سے محرومی کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں حسد کی مذمت:

اسلام نے انسانی معاشرے کو محبت، خیر خواہی، اخوت اور باہمی احترام کا درس دیا ہے، جب کہ حسد ان تمام اقدار کے منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ فلق میں حاسد کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾
ترجمہ: اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ (الفلق: 5)
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے ہمیں حاسد کے شر سے اپنی پناہ میں آنے کی تعلیم دی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حسد جب عملی صورت اختیار کرتا ہے تو دوسروں کے لیے نقصان اور اذیت کا باعث بن سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے باہمی تعلقات کی اصلاح اور دلوں کو پاک رکھنے کے لیے ارشاد فرمایا:«لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَىٰ بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا»(صحیح مسلم،ج/2 ص/317،مجلس برکات، مبارکپور)
ترجمہ: آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے کو دھوکا دینے کے لیے قیمت نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو اور ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ-
یہ حدیث اسلامی معاشرت کی ایسی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر محبت، اعتماد، اخوت اور باہمی خیر خواہی کا معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
حسد کی مذمت کے ساتھ ساتھ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے دو طرح کے لوگوں کے لیے قابلِ رشک کیفیت کا ذکر فرمایا:
«لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ»(صحیح مسلم ج/1 ص/272، مجلس برکات)
ترجمہ: رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جاسکتا ہے: ایک وہ جسے اللہ نے قرآن عطا فرمایا اور وہ رات دن اس کے مطابق عمل کرتا ہے، دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اسے رات دن اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔
یہاں حسد سے مراد جائز رشک ہے جسے عربی اصطلاح میں غبطہ کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی کی نعمت دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ کاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسی نعمت عطا فرمائے، لیکن اس شخص سے وہ نعمت چھننے کی تمنا ہرگز نہ ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام انسان کو دوسروں کی نعمتوں پر جلنے کے بجائے ان جیسی نیکی اور بھلائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

حسد اور غبطہ میں فرق: ایک ضروری وضاحت

بہت سے لوگ حسد اور غبطہ کے فرق کو نہیں سمجھتے، حالاں کہ دونوں میں بنیادی فرق ہے۔
حسد یہ ہے کہ کسی شخص کو حاصل شدہ نعمت چھن جانے کی تمنا کی جائے، جب کہ غبطہ یہ ہے کہ کسی کو نعمت سے سرفراز دیکھ کر اپنے لیے بھی اسی جیسی نعمت کی خواہش کی جائے، مگر دوسرے کی نعمت برقرار رہنے پر کوئی اعتراض نہ ہو۔
مثلاً کسی عالم کو علمی مقام حاصل ہے۔ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس کا علمی مقام ختم ہوجائے تو یہ حسد ہے، لیکن اگر وہ یہ تمنا کرے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسا علم، عمل اور مقام عطا فرمائے تو یہ غبطہ ہے۔
اسی طرح کسی مال دار کو دیکھ کر اس کے مال کے زوال کی خواہش کرنا حسد ہے، جب کہ یہ چاہنا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی حلال اور پاکیزہ مال عطا فرمائے تاکہ میں اس سے نیک کاموں میں حصہ لے سکوں، غبطہ ہے۔
پس ایک مسلمان کو حسد سے بچتے ہوئے غبطہ اور مثبت مسابقت کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔

ہر قلبی خیال حسد نہیں: ایک اہم شرعی وضاحت

انسانی دل میں مختلف خیالات اور جذبات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کی کامیابی دیکھ کر غیر اختیاری طور پر دل میں ناگواری یا جلن کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن محض ایسا خیال آجانے سے انسان کو فوراً گناہ گار قرار نہیں دیا جاسکتا، جب تک وہ اس کیفیت کو جان بوجھ کر اپنے دل میں جگہ نہ دے، اسے پروان نہ چڑھائے یا اس کے تقاضوں کے مطابق عمل نہ کرے۔
اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:«إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ»(صحیح بخاری ج/2 ص/794؛ صحیح مسلم ج/1 ص/78،مجلس برکات)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے ان خیالات سے درگزر فرمایا ہے، جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا انہیں زبان سے ادا نہ کریں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر اختیاری وسوسوں اور دل میں اچانک پیدا ہونے والے خیالات پر مواخذہ نہیں، البتہ انسان کو چاہیے کہ ایسے منفی جذبات کو اپنے دل میں جگہ دینے کے بجائے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اپنے باطن کی اصلاح کی کوشش کرے۔

حسد کا علاج: دل کی دنیا کو کیسے پاک کیا جائے؟

حسد ایک باطنی مرض ہے، اس لیے اس کا حقیقی علاج بھی دل کی اصلاح، فکر کی درستگی اور عملی تربیت میں پوشیدہ ہے۔ صرف زبان سے یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ میں کسی سے حسد نہیں کرتا، بلکہ اپنے باطن کی مسلسل نگرانی اور تربیت ضروری ہے۔
اس مرض سے نجات کے لیے درج ذیل تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں:

1۔ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہیے:

سب سے پہلے اپنے دل میں یہ یقین مضبوط کیجیے کہ دنیا کی ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے، اپنے فضل و کرم اور حکمت سے عطا فرماتا ہے۔ دوسروں کو ملنے والی نعمت آپ کے حصے کی نعمت نہیں چھینتی۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾
ترجمہ: ہم نے ان کے درمیان دنیا کی زندگی میں ان کی روزی تقسیم کردی ہے-
(الزخرف: 32)
جب رزق اور نعمتوں کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو بندے کو اس کی تقسیم پر اعتراض کرنے کے بجائے اپنے حصے پر شکر اور مزید فضل کی دعا کرنی چاہیے۔

2۔ اپنی نعمتوں کو پہچانیے:

حسد کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انسان دوسروں کی نعمتیں تو دیکھتا ہے، لیکن اپنی نعمتوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ وہ دوسروں کی دولت دیکھتا ہے مگر اپنی صحت بھول جاتا ہے، دوسروں کی شہرت دیکھتا ہے مگر اپنے خاندان کی محبت کو نظر انداز کردیتا ہے اور دوسروں کا منصب دیکھتا ہے مگر اپنے علم، ایمان اور عزت کو بھول جاتا ہے۔
اگر انسان روزانہ چند لمحے اپنی نعمتوں پر غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے۔

3۔ محسود کے لیے دعا کیجیے:

یہ حسد کے علاج کا ایک نہایت مؤثر عملی طریقہ ہے۔ جب کسی کی ترقی یا کامیابی دیکھ کر دل میں جلن محسوس ہو تو فوراً اس کے لیے خیر و برکت کی دعا کیجیے مثلاً کہیے: یا اللہ! میرے اس بھائی کو مزید ترقی عطا فرما، اس کے علم، عمل، مال اور عزت میں برکت عطا فرما اور مجھے بھی اپنے فضل سے جائز اور پاکیزہ نعمتوں سے نواز دے۔
ابتدا میں یہ عمل نفس پر بھاری محسوس ہوسکتا ہے، لیکن مسلسل مشق سے دل کی کدورت کم ہونے لگتی ہے اور رفتہ رفتہ دوسرے کی خوشی میں خوش ہونے کی عادت پیدا ہوجاتی ہے۔

4۔ محسود کی خوبیوں کا اعتراف کیجیے:

جس شخص سے حسد ہو، اس کی خوبیوں کو تلاش کیجیے۔ اگر وہ عالم ہے تو اس کے علم کا اعتراف کیجیے، اگر وہ کامیاب ہے تو اس کی محنت کو تسلیم کیجیے اور اگر وہ صاحبِ کردار ہے تو اس کے اچھے اخلاق کی تعریف کیجیے۔
کسی کی خوبی کا اعتراف کرنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ظرف بلند ہوتا ہے۔

5۔ اپنی اصلاح اور ترقی پر توجہ دیجیے:

دوسروں کی زندگی میں جھانکنے کے بجائے اپنی زندگی کا جائزہ لیجیے۔ یہ دیکھیے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں، آپ کی کمزوریاں کیا ہیں اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کن صلاحیتوں کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔
اگر آپ کو کسی کا علم متاثر کرتا ہے تو خود علم حاصل کیجیے، کسی کی مالی خوش حالی دیکھ کر جلن ہوتی ہے تو حلال روزگار کے لیے محنت کیجیے اور کسی کی مقبولیت ناگوار گزرتی ہے تو اپنے اخلاق اور کردار کو بہتر بنائیے۔
یاد رکھیے! دوسروں کی کامیابی پر جلنے سے آپ کامیاب نہیں ہوں گے، لیکن ان کی اچھی عادات سے سیکھنے اور محنت کرنے سے اپنی منزل ضرور حاصل کرسکتے ہیں۔

6۔ دوسروں کی کامیابی کا کھلے دل سے اعتراف کیجیے:

جب کسی کو کامیابی ملے تو اسے مبارک باد دیجیے، اس کی حوصلہ افزائی کیجیے اور اس کے لیے خیر کی دعا کیجیے۔ کسی کی کامیابی پر خوش ہونا بھی ایک تربیت ہے، جسے مسلسل مشق سے اپنے اندر پیدا کیا جاسکتا ہے۔

7۔ حسد پیدا کرنے والے اسباب سے دور رہیے:

اگر کسی شخص کی زندگی، کامیابیوں یا آسائشوں کا مسلسل مشاہدہ آپ کے دل میں جلن پیدا کرتا ہے تو غیر ضروری طور پر اس کے حالات کی نگرانی ترک کردیجیے۔ دوسروں کی زندگیوں کا موازنہ کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کیجیے۔
سوشل میڈیا پر دوسروں کی ظاہری خوش حالی دیکھ کر اپنی زندگی کو حقیر سمجھنا بھی اسی نفسیاتی کیفیت کو بڑھا سکتا ہے۔ یاد رکھیے کہ آپ دوسروں کی زندگی کا صرف ایک ظاہری پہلو دیکھتے ہیں، ان کی آزمائشوں اور پریشانیوں سے واقف نہیں ہوتے۔

8۔ توبہ، استغفار اور ذکرِ الٰہی کا اہتمام کیجیے:

دل کی پاکیزگی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، کثرتِ استغفار، تلاوتِ قرآن اور ذکر و درود کا اہتمام کیجیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ دل کو کینہ، بغض، حسد اور تمام باطنی بیماریوں سے پاک فرمائے۔

9۔ اپنی زبان اور ہاتھ کو دوسروں کے نقصان سے محفوظ رکھیے:

اگر دل میں حسد کا احساس پیدا ہو بھی جائے تو اسے غیبت، بہتان، تمسخر، سازش اور حق تلفی کی صورت اختیار نہ کرنے دیجیے۔ کسی کے خلاف غلط بات پھیلانے، اس کی عزت مجروح کرنے یا اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے سے اپنے آپ کو سختی سے روکیے۔ باطنی اصلاح کے ساتھ ظاہری اعمال کی حفاظت بھی ضروری ہے۔

حسد کی سنگینی:

حسد کی تباہ کاریوں کے حوالے سے ایک روایت سنن ابی داؤد میں منقول ہے:
«إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ»(سنن ابی داؤد، کتاب الادب،باب فی الحسد)
ترجمہ: حسد سے بچو، کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
یہ حدیث حسد کی سنگینی اور اس کے روحانی نقصانات کو نہایت مؤثر مثال کے ذریعے واضح کرتی ہے۔ جس طرح آگ لکڑی کو جلا کر راکھ کردیتی ہے، اسی طرح حسد انسان کی نیکیوں اور اخلاقی خوبیوں کو تباہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔

ایک قابلِ عمل مشق: سات روزہ خود احتسابی

حسد سے نجات صرف وعظ و نصیحت سننے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے عملی تربیت اور مسلسل خود احتسابی ضروری ہے۔ ہر شخص اپنے لیے روزانہ چند منٹ مخصوص کرکے درج ذیل مشق اختیار کرسکتا ہے:

1. روزانہ کم از کم اپنی تین نعمتیں یاد کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے۔
2. کسی ایسے شخص کے لیے خیر و برکت کی دعا کیجیے جس کی کامیابی آپ کو ناگوار گزرتی ہو۔
3. روزانہ کم از کم ایک شخص کی کسی حقیقی خوبی کا اعتراف کیجیے۔
4. دوسروں سے اپنا غیر ضروری موازنہ کرنے سے گریز کیجیے۔
5. اپنی ترقی کے لیے ایک چھوٹا سا عملی قدم ضرور اٹھائیے۔
6. رات کو سونے سے پہلے اپنا محاسبہ کیجیے کہ آج کسی کی خوشی پر آپ کا دل خوش ہوا یا آپ کے اندر جلن پیدا ہوئی؟
7. اگر کسی کے ساتھ زیادتی، غیبت یا حق تلفی کی ہو تو توبہ کیجیے اور جہاں ممکن ہو اس کی تلافی کیجیے۔

اس مختصر مشق کو مسلسل جاری رکھنے سے انسان اپنے جذبات، رویوں اور باطنی کیفیات پر قابو پانے کی تربیت حاصل کرسکتا ہے۔ البتہ اسے مکمل علاج کے بجائے اصلاح کی ایک ابتدائی اور عملی کوشش سمجھنا چاہیے۔

معاشرے کے باشعور افراد کی ذمہ داری:

حسد کا علاج صرف انفرادی اصلاح تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ گھر، خاندان، تعلیمی اداروں، دینی مراکز اور معاشرتی حلقوں میں بھی اس کے انسداد کی کوشش ہونی چاہیے۔
والدین بچوں کو ایک دوسرے سے غیر ضروری طور پر مقابلہ کرنے اور موازنہ کرنے کے بجائے باہمی محبت، تعاون اور حوصلہ افزائی کی تربیت دیں۔ اساتذہ طلبہ میں صحت مند مسابقت کا جذبہ پیدا کریں، مگر کسی طالب علم کی کامیابی کو دوسرے کے لیے احساسِ کمتری اور نفرت کا سبب نہ بننے دیں۔
علمی و دینی حلقوں میں ایک دوسرے کی خدمات کا اعتراف کیا جائے، اہلِ علم کی عزت کی جائے اور اختلافِ رائے کو ذاتی عداوت میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔
اسی طرح سماجی اور تنظیمی زندگی میں بھی یہ اصول اپنایا جائے کہ کسی کی ترقی کو اپنی شکست نہ سمجھا جائے۔ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے کسی میدان میں آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، اس کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے اور اجتماعی ترقی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
یاد رکھیے! کسی ایک فرد کی کامیابی پورے معاشرے کی ناکامی نہیں ہوتی، بلکہ مثبت سوچ رکھنے والا معاشرہ اپنے ہر کامیاب فرد کو اپنی اجتماعی قوت کا حصہ سمجھتا ہے۔

چند لمحے اپنے دل سے سوال کیجیے!

کیا کبھی آپ نے کسی کو کامیاب ہوتے دیکھ کر دل میں بے چینی محسوس کی ہے؟
کیا کبھی کسی کی تعریف سن کر آپ کا دل تنگ ہوا ہے؟
کیا کبھی کسی کی ترقی کو اتفاق، سفارش یا خوش قسمتی کا نتیجہ قرار دے کر اس کی محنت کو نظر انداز کیا ہے؟
کیا کبھی کسی کی عزت گھٹانے کے لیے اس کی کمزوریوں کو دوسروں کے سامنے بیان کیا ہے؟
کیا کبھی آپ نے یہ خواہش کی ہے کہ فلاں شخص کی یہ نعمت ختم ہوجائے، تاکہ وہ آپ کے برابر یا آپ سے نیچے آجائے؟
اگر ان میں سے کسی سوال کا جواب اثبات میں ہے تو دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے دل کی اصلاح کیجیے۔ کیونکہ حسد کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان دوسروں کے زوال کی فکر میں اپنی اصلاح اور اپنی آخرت سے غافل ہوجاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھیے کہ حسد کا علاج یہ نہیں کہ آپ اپنی صلاحیتیں چھپا لیں، اپنی کامیابیاں ترک کردیں یا اپنی جائز خوشیوں کو دوسروں کی ناگواری کے خوف سے محدود کردیں۔ بلکہ اصل علاج یہ ہے کہ محسود اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق استعمال کرے، جب کہ حاسد اپنے دل کو حسد سے پاک کرنے کی کوشش کرے۔

دوسروں کے چراغ بجھانے کے بجائے اپنا چراغ روشن کیجیے!

زندگی بہت مختصر ہے۔ اسے دوسروں کی کامیابیوں پر جلنے، ان کی نعمتوں کے زوال کی تمنا کرنے اور ان کے عیوب تلاش کرنے میں ضائع کردینا دانش مندی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اپنے وقت کی قدر کرے، اپنے مقاصد متعین کرے اور اپنی زندگی کو تعمیری سرگرمیوں میں صرف کرے۔
دنیا میں ہر شخص کا اپنا مقام، اپنی صلاحیت، اپنی ذمہ داری اور اپنا دائرۂ کار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو علم کی دولت عطا کی ہے تو کسی کو حسنِ اخلاق کی، کسی کو مال دیا ہے تو کسی کو خدمتِ خلق کا جذبہ، کسی کو شہرت ملی ہے تو کسی کو گمنامی میں رہ کر عظیم کام کرنے کی توفیق نصیب ہوئی ہے۔ اس لیے کسی کی نعمت دیکھ کر پریشان ہونے کے بجائے اپنے حصے کی نعمت کو پہچانیے اور اسے بہترین انداز میں استعمال کیجیے۔
حاسد یہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسرے کی خوشیوں سے جل کر گویا اس سے انتقام لے رہا ہے، حالاں کہ حقیقت میں وہ اپنے ہی سکون کا خون کر رہا ہوتا ہے۔ وہ دوسرے کی عزت کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اپنے کردار کو گرا دیتا ہے؛ وہ دوسرے کی ترقی روکنا چاہتا ہے، مگر اپنی ترقی کے راستے خود مسدود کرلیتا ہے۔
اس کے برعکس بلند ظرف انسان دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، ان کی خوبیوں کا اعتراف کرتا ہے، ان کے لیے دعائے خیر کرتا ہے اور اپنی زندگی کو مثبت مقاصد کے لیے وقف رکھتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تقسیم کرنے سے کم نہیں ہوتیں، بلکہ اس کا فضل و کرم بے پایاں ہے۔ کسی دوسرے کو ملی ہوئی نعمت ہمارے لیے محرومی کی دلیل نہیں، بلکہ اس بات کی امید بھی ہوسکتی ہے کہ وہی رب ہمیں بھی اپنے فضل سے نواز سکتا ہے۔
لہٰذا آئیے! اپنے دلوں کو حسد، بغض، کینہ اور عداوت سے پاک کریں۔ ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوش ہونا سیکھیں، ایک دوسرے کے لیے دعائیں کریں، خوبیوں کا اعتراف کریں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنی توانائیاں صرف کریں۔
کیونکہ دوسروں کے چراغ بجھانے سے ہماری زندگی روشن نہیں ہوتی؛ زندگی اس وقت روشن ہوتی ہے جب ہم اپنے اندر محنت، اخلاص، محبت، خیر خواہی اور خدمتِ خلق کا چراغ روشن کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں پاکیزہ دل، صاف نیت، وسیع ظرف، جذبۂ خیر خواہی اور حسد و بغض سے محفوظ رہنے والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

ردِعمل دیں (1)

شیئر کریں (4)

تبصرے (0)

شائع کردہ

✍️ Active Reporter ★★★★★
K

Kashif Raza

📍 Gorakhpur

📰 10 پوسٹ👁 963 قارئین📊 96.3 اوسط قارئین

جناب کاشف رضا ایک نوجوان متحرک و فعال صحافی اور کالم نگار ہیں۔

اسی زمرے میں مزید

وہ آہ جو آستانۂ مجدد سے بارآور ہوئی!

تنہائی کے گناہ اور دنیا و آخرت میں رسوائی

عداوت کی آگ بھڑکنے سے پہلے ہی بجھاؤ

مقبول ترین پوسٹس

علامہ اقبال اور اردو زبان کی ترویج

👁 538 ویوز

مدینہ یونیورسٹی میں 100 مصنفین کی کتابوں پر پابندی، فہرست میں پہلا نام مولانا ابوالحسن علی ندوی کا

👁 435 ویوز

اولاد کی تربیت شفقت و حکمت سے

👁 358 ویوز

شراب کے دینی و دنیوی نقصانات

👁 295 ویوز

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت!

👁 272 ویوز