تحفظِ انسانیت: کیوں اور کیسے؟
موجودہ حالات میں انسانی جان، عزت، صحت اور ذہنی سکون کی حفاظت — قرآن، حدیث اور قانون کی روشنی میں
تحریر: ڈاکٹر سید آصف عمری
رابطہ: 9885650216
تمہید: انسانیت کی حفاظت وقت کی اہم ترین ضرورت
آج دنیا سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور مادی خوش حالی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن ایک اہم سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے: کیا انسان کی جان محفوظ ہے؟ کیا اس کی عزت، صحت، ذہنی سکون اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہو رہا ہے؟
قتل، خودکشی، منشیات، مضر غذاؤں، غیر ذمہ دارانہ ادویات کے استعمال، اسقاطِ حمل، زنا، سود، ذہنی اذیت، گھریلو تشدد اور دوسروں کو بلاوجہ پریشان کرنے جیسے مسائل ہمارے معاشرے کے لیے سنجیدہ چیلنج ہیں۔
تحفظِ انسانیت صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ دینی فریضہ، اخلاقی ذمہ داری اور سماجی ضرورت ہے۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسان کی جان، عزت، مال، صحت اور سکون کی حفاظت کی جائے اور کسی کو ناحق تکلیف نہ پہنچائی جائے۔
1۔ انسانی جان کتنی قیمتی ہے؟
قرآن مجید نے انسانی جان کی حرمت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا
ترجمہ: جس نے کسی جان کو، کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔
(سورۃ المائدہ: 32)
اس آیت سے انسانی جان کی عظمت اور حرمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کسی بے گناہ کی جان لینا معمولی جرم نہیں، بلکہ انسانیت کے خلاف سنگین ظلم ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کے خون، مال اور عزت کی حرمت بیان فرمائی۔
(صحیح بخاری: 67؛ صحیح مسلم: 1679)
ہماری ذمہ داری: مذہب، زبان، نسل، ذات یا اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کی جان یا عزت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے انصاف اور قانونی طریقۂ کار اختیار کریں۔
2۔ قتل اور خودکشی: دونوں سے حفاظت ضروری
اسلام ناحق قتل اور خودکشی دونوں سے روکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
ترجمہ: اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔
(سورۃ النساء: 29)
خودکشی کے خیالات اکثر شدید ذہنی دباؤ، ناامیدی، تنہائی، گھریلو مسائل، معاشی پریشانی یا بیماری کے دوران پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے شخص کو ملامت کرنے، شرمندہ کرنے یا اس کے درد کو معمولی سمجھنے کے بجائے اس کی بات سننا، اسے سہارا دینا اور ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر تک پہنچانا ضروری ہے۔
یاد رکھیے: ذہنی بیماری کمزور ایمان کی لازمی علامت نہیں۔ علاج کروانا، مدد لینا اور زندگی بچانے کی کوشش کرنا اہم اقدامات ہیں۔
اگر کسی شخص کو خودکشی کا فوری خطرہ ہو تو اسے تنہا نہ چھوڑیں، محفوظ طریقے سے خطرناک اشیاء دور کریں اور فوری طبی یا ہنگامی مدد حاصل کریں۔
3۔ مضر غذائیں اور ادویات: صحت کی حفاظت بھی تحفظِ انسانیت ہے
انسانی جسم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے۔ ایسی غذا، نشہ آور چیز یا دوا کا استعمال جو جسم کو نقصان پہنچائے، سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ
ترجمہ: اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
(سورۃ البقرۃ: 195)
بازار میں غیر معیاری خوراک، ملاوٹ، زائد چینی، غیر محفوظ تیل، تمباکو، غیر قانونی منشیات اور جعلی ادویات انسانی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر طاقت ور ادویات، اینٹی بایوٹکس، ہارمونز یا جنسی قوت بڑھانے والی نامعلوم مصنوعات استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ
ترجمہ: نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔
(سنن ابن ماجہ: 2340؛ موطا امام مالک، کتاب الأقضیہ)
یہ اسلامی اصول صحت، تجارت، علاج اور روزمرہ زندگی میں دوسروں کو نقصان سے بچانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
عملی اقدامات:
- صاف، متوازن اور محفوظ غذا استعمال کریں۔
- تمباکو اور منشیات سے دور رہیں۔
- ادویات مستند ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔
- جعلی علاج اور بے بنیاد طبی دعووں سے بچیں۔
- مریض کو غیر ضروری یا نقصان دہ علاج پر مجبور نہ کریں۔
4۔ منشیات: فرد، خاندان اور معاشرے کی تباہی
منشیات انسان کی جسمانی صحت، ذہنی صلاحیت، خاندانی زندگی اور معاشی حالت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ نشے کے اثرات میں حادثات، تشدد، بیماری اور بعض حالات میں جان کا خطرہ بھی شامل ہے۔
قرآن مجید میں شراب اور جوئے کے متعلق فرمایا گیا: فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
ترجمہ: پس ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
(سورۃ المائدہ: 90)
منشیات کی لت میں مبتلا شخص کو صرف برا بھلا کہنے کے بجائے علاج، نفسیاتی معاونت، خاندانی تعاون اور بحالی کے مواقع فراہم کرنا چاہییں۔ غیر قانونی منشیات کی خرید و فروخت اور دوسروں کو اس کی طرف مائل کرنے سے بھی بچنا ضروری ہے۔
5۔ اسقاطِ حمل اور ماں کے پیٹ میں جنین کی حفاظت
اسلام انسانی زندگی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ قرآن مجید اولاد کو غربت کے خوف سے قتل کرنے کی ممانعت کرتا ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ
ترجمہ: اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو۔
(سورۃ الإسراء: 31)
جنین کی زندگی اور حرمت کا معاملہ انتہائی حساس ہے۔ اسقاطِ حمل کا شرعی حکم حمل کی مدت، وجہ، ماں کی صحت اور دیگر حالات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہر صورت کو ایک جیسا قرار دینا درست نہیں۔
حمل کے دوران ماں کی جان یا صحت کو سنگین خطرہ ہو تو مستند ماہر ڈاکٹر اور اہلِ علم سے فوری مشورہ کیا جائے۔ کسی بھی غیر محفوظ طریقے سے حمل ختم کرنے کی کوشش ماں کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
بھارت میں اسقاطِ حمل کے قانونی معاملات Medical Termination of Pregnancy Act, 1971 اور اس میں ہونے والی ترامیم و قواعد کے تحت آتے ہیں۔ قانون میں مقررہ شرائط، طبی رائے اور حمل کی مدت اہم ہیں۔
اصول: ماں کی جان و صحت کا تحفظ، جنین کی حرمت اور قانون و شریعت کی رہنمائی کو سنجیدگی سے سامنے رکھا جائے۔
6۔ زنا، جنسی استحصال اور عزت کی حفاظت
اسلام پاکیزگی، وفاداری، نکاح کی حرمت اور خاندان کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
ترجمہ: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔
(سورۃ الإسراء: 32)
اسلامی تعلیمات کے مطابق زنا سے بچنا، نگاہوں کی حفاظت، باہمی وفاداری اور پاکیزہ معاشرت اختیار کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جنسی ہراسانی، جبر، استحصال اور کمزور افراد کو نشانہ بنانا بھی قابلِ مذمت ہے۔
کسی پر محض شک یا افواہ کی بنیاد پر الزام لگانا، اس کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا یا اس کی عزت اچھالنا بھی سنگین ظلم ہے۔ کسی الزام کی تحقیق قانون اور منصفانہ طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔
7۔ سود اور معاشی استحصال
اسلامی معاشی نظام عدل، امانت، دیانت اور باہمی رضامندی پر زور دیتا ہے۔ سود کے بارے میں قرآن مجید میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا
ترجمہ: اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔
(سورۃ البقرۃ: 275)
معاشرے میں قرض کے نام پر استحصال، دھوکا، ناجائز مالی دباؤ اور ضرورت مندوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا انسانیت کے خلاف ہے۔
ہمیں دیانت دار تجارت، جائز مالی معاملات، قرض دار کے ساتھ نرمی، مستحق افراد کی مدد اور مالی معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا چاہیے۔
8۔ ذہنی اذیت، گھریلو تشدد اور بلاوجہ پریشان کرنا
انسانیت کا تحفظ صرف جسمانی حملے سے بچانے کا نام نہیں۔ زبان، رویّے، دھمکیوں، تذلیل، مسلسل دباؤ اور نفسیاتی تشدد سے بھی انسان شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
(صحیح بخاری: 10؛ صحیح مسلم: 40)
ایک شوہر کا بیوی کو مسلسل ذلیل کرنا، بیوی کا شوہر کو جان بوجھ کر اذیت دینا، والدین کا بچوں کو ہر وقت خوف زدہ رکھنا، اساتذہ کا طلبہ کی تذلیل کرنا، افسر کا ماتحت کو ہراساں کرنا یا کسی شخص کو بار بار غیر ضروری فون اور پیغامات کے ذریعے پریشان کرنا قابلِ اصلاح رویّے ہیں۔
اختلاف ہونا فطری ہے، لیکن اختلاف کی آڑ میں گالی، دھمکی، تذلیل، تشدد یا مسلسل ہراسانی جائز نہیں ہو جاتی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا
ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
(سورۃ البقرۃ: 83)
یاد رکھیے: ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، لیکن ہر شخص کی عزت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ خاموشی، نرمی، معافی، مناسب فاصلہ اور منصفانہ گفتگو کئی مسائل کا حل بن سکتے ہیں۔
9۔ قانون کی روشنی میں تحفظِ انسانیت
ہندوستانی آئین اور قوانین بھی انسانی جان، آزادی، عزت اور صحت کے تحفظ کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
آئینِ ہند کی دفعہ 21: زندگی اور شخصی آزادی کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔ عدالتی تشریح میں باوقار زندگی اور صحت سے متعلق اہم پہلو بھی شامل ہیں۔
بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 (BNS): قتل، جسمانی نقصان، دھمکی، جنسی جرائم اور دیگر قابلِ سزا افعال سے متعلق دفعات رکھتی ہے۔
Protection of Women from Domestic Violence Act, 2005: خواتین کو گھریلو تشدد کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
Mental Healthcare Act, 2017: ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے حقوق سے متعلق قانونی تحفظات بیان کرتا ہے۔
Consumer Protection Act, 2019 اور Food Safety and Standards Act, 2006: صارفین کے حقوق، غیر معیاری مصنوعات اور خوراک کی حفاظت کے معاملات میں اہم ہیں۔
Drugs and Cosmetics Act, 1940 اور متعلقہ قواعد: ادویات کے معیار، تیاری، فروخت اور دیگر متعلقہ امور کو منظم کرتے ہیں۔
قانونی دفعات کا اطلاق ہر معاملے کے حقائق پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے کسی مخصوص واقعے میں مستند وکیل، متعلقہ حکام یا قانونی امداد سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
10۔ تحفظِ انسانیت کے لیے ہم کیا کریں؟
انسانیت کی حفاظت صرف حکومت، پولیس یا عدالت کی ذمہ داری نہیں؛ ہر فرد کا کردار اہم ہے۔
1. والدین: بچوں کی تربیت محبت، انصاف اور ذمہ داری سے کریں۔
2. شوہر اور بیوی: ایک دوسرے کی عزت، جذبات اور حقوق کا خیال رکھیں۔
3. علماء اور ائمہ: خطبات اور دروس میں جان کی حرمت، حقوق العباد اور معاشرتی اصلاح کو اجاگر کریں۔
4. ڈاکٹرز: مریض کی سلامتی، درست تشخیص، مناسب علاج اور باخبر رضامندی کو اہمیت دیں۔
5. اساتذہ: طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی عزتِ نفس کی حفاظت کریں۔
6. نوجوان: منشیات، تشدد، ہراسانی اور مضر عادات سے بچیں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔
7. میڈیا: سنسنی خیزی اور غیر مصدقہ خبروں کے بجائے ذمہ دارانہ صحافت اپنائے۔
8. پولیس اور انتظامیہ: قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ کارروائی کریں اور متاثرین کی حفاظت کو ترجیح دیں۔
9. سماجی ادارے: ذہنی صحت، نشے سے بحالی، خاندانی مشاورت اور انسانی حقوق کے لیے کام کریں۔
10. ہر شہری: کسی کو نقصان پہنچانے سے بچے، ظلم دیکھے تو محفوظ اور قانونی طریقے سے مدد کرے اور مظلوم کی آواز بنے۔
اختتامیہ: انسان کو بچائیے، انسانیت کو بچائیے!
آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں طاقت ور کمزور کو کچل دے، یا ایسا معاشرہ جہاں ہر انسان کی جان، عزت، صحت اور سکون کا احترام کیا جائے۔
قرآن ہمیں عدل و احسان کی دعوت دیتا ہے:إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ
ترجمہ: بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
(سورۃ النحل: 90)
آئیے عہد کریں کہ ہم کسی کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے، کسی کو خودکشی کی طرف دھکیلنے والے رویّے اختیار نہیں کریں گے، مضر اشیاء اور منشیات سے بچیں گے، خواتین اور بچوں کے حقوق کی حفاظت کریں گے، کسی کی عزت پامال نہیں کریں گے اور بلاوجہ کسی کو ذہنی یا جسمانی اذیت نہیں دیں گے۔
ایک محفوظ انسان، ایک محفوظ خاندان بناتا ہے؛ ایک محفوظ خاندان، ایک مضبوط معاشرہ بناتا ہے؛ اور ایک مضبوط معاشرہ، انسانیت کے روشن مستقبل کی بنیاد بنتا ہے۔
ہمارا پیغام
جان کی حفاظت — ایمان کی ذمہ داری
عزت کی حفاظت — اخلاق کی ذمہ داری
صحت کی حفاظت — معاشرے کی ذمہ داری
ظلم کا سدِباب — ہر انسان کی ذمہ داری
تحفظِ انسانیت کے لیے خود بھی آگے بڑھیے اور دوسروں کو بھی بیدار کیجیے۔
تبصرے (0)
شائع کردہ
اسی زمرے میں مزید

وہ آہ جو آستانۂ مجدد سے بارآور ہوئی!

تنہائی کے گناہ اور دنیا و آخرت میں رسوائی





