تازہ ترین
• عرب ریڈنگ چیلنج: دنیا کا سب سے بڑا ادبی مقابلہ • کتاب حقیقۃ الفقہ: حدیث و فقہ کی تکمیلی حیثیت کو واضح کرتی ہے • حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہل بیت سے محبت اور رشتہ داریاں • مسلمان ایک جسم کے مانند ہے • تلنگانہ میں آئندہ ایم ایل سی انتخابات کے لیے 16 نومبر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں کراسکتے ہیں اندراج • پیارے کھڑگے جی! یہ کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ • انڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن ودربھ اسٹیٹ یونٹ کا اجلاس اختتام پذیر ہوا • گوونڈی میں یو سی سی پر میٹنگ اختتام پذیر • ہر ایک شخص وفادار ہو ضروری کیا • وزیرِ اعلیٰ کیرالا نے دارالہدیٰ سباق 2026 کی دعوت قبول کرلی، لوگو کی رونمائی

جغرافیہ ضلع سنت کبیر نگر؛ ایک تعارف

📅 27-09-2026 👁 84 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 3 شیئر
کتاب و رسالہ

نام کتاب جغرافیہ ضلع سنت کبیر نگر
مؤلف سلمان کبیرنگری
ناشر عافیہ اکیڈمی ،برینیاں سنت کبیر نگر یوپی
سن اشاعت 2026
صفحات 64
قیمت 50روپئے

جغرافیہ ضلع سنت کبیر نگر سلمان کبیرنگری کی دوسری کاوش ہے مؤلف کا تعلق ضلع سنت کبیر نگر یوپی سے ہے، سلمان کبیر نگریؔ اردو زبان و ادب سے وابستہ شاعر، صحافی، مصنف اور مدرس ہیں۔ ان کی ادبی و علمی سرگرمیوں کا مرکز بالخصوص بستی، سدھارتھ نگر وسنت کبیر نگر اور ان کے اطراف کے علاقے ہیں۔ شاعری، صحافت، تدریس اور تصنیف و تالیف کے ساتھ علاقائی شعراء اور اہلِ قلم کو متعارف کرانا بھی ان کی دل چسپی کا اہم میدان ہے۔ سہ ماہی رسالے ’’نئی روشنی‘‘ کی ادارت اور مختلف موضوعات پر ان کی تصنیفی و تالیفی کاوشیں ان کی ادبی سرگرمیوں کی نمایاں مثالیں ہیں ان کے تحریر کردہ مضامین ملک کے موقر اخبارات ورسائل میں شائع ہوتے ہیں ۔

ولادت و تعلیم

سلمان احمد بن سرسید احمد بن مختار احمد بن ضلع دار بن عبداللہ بن بہاؤالدین بن شجاع الدین، 27 جولائی 1991ء کو موضع برینیاں، پوسٹ گنوا کھور، بلاک بلہر کلاں، تحصیل مہنداول ، ضلع سنت کبیر نگر، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ادبی دنیا میں وہ سلمان کبیر نگری کے نام سے معروف ہیں۔

انہوں نے دینی تعلیم جامعہ اسلامیہ مظفر پور، ضلع اعظم گڑھ، شاخ ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے حاصل کی۔ عصری تعلیم کے سلسلے میں شری رام نریش چودھری، رمواپور، ضلع سنت کبیر نگر سے انٹرمیڈیٹ کیا اور خواجہ معین الدین چشتی زبان، ادب و ثقافت یونیورسٹی، لکھنؤ میں بی اے کے پہلے سال تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ مدرسہ تعلیمی بورڈ، لکھنؤ سے منشی اور مولوی کی اسناد بھی حاصل کیں۔ حکیم نورالہدیٰ اور انجینئر محمود خان محمود سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔
کسی بھی خطے کی حقیقی شناخت اس کی تاریخ، تہذیب، جغرافیہ، علمی سرمایہ اور معاشرتی خصوصیات سے قائم ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی، اپنی سرزمین اور اپنے تمدنی ورثے سے واقف ہوتی ہیں، وہی مستقبل کی تعمیر میں مضبوط کردار ادا کرتی ہیں۔
اسی احساس کے پیش نظر ضلع سنت کبیر نگر کے معروف قلم کار، صحافی اور مدیر ماہنامہ "نئی روشنی" جناب سلمان کبیر نگری (موضع برینیاں، ضلع سنت کبیر نگر) نے "جغرافیہ سنت کبیر نگر" کے نام سے ایک نہایت مفید، معلوماتی اور قابلِ قدر کتاب اہلِ علم اور خصوصاً طلبہ کے سامنے پیش کی ہے، جو بلاشبہ ان کی علمی بصیرت، تحقیقی ذوق اور اپنے ضلع سے والہانہ محبت کا آئینہ دار ہے۔
اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مصنف نے محض جغرافیہ کے خشک موضوعات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ضلع سنت کبیر نگر کی جغرافیائی ساخت، تاریخی پس منظر، انتظامی تقسیم، دریاؤں، تالابوں، آب و ہوا، زرعی پیداوار، قدرتی وسائل، تعلیمی اداروں، مدارس، مذہبی و تاریخی مقامات، صنعت، آبادی، آزادی کے مجاہدین اور دیگر اہم معلومات کو نہایت سادہ، مربوط اور عام فہم انداز میں یکجا کردیا ہے۔ یہی خصوصیت اس کتاب کو صرف نصابی معاون کتاب نہیں بلکہ ضلع سنت کبیر نگر کا ایک مختصر مگر جامع تعارف بنا دیتی ہے۔
یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ مصنف نے اس کتاب کو خاص طور پر مدارس اور اسکولوں کے طلبہ کی علمی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کیا ہے۔ آج کے دور میں جب نئی نسل اپنے علاقے کی بنیادی معلومات سے بھی ناواقف ہوتی جارہی ہے، ایسی تصنیفات نہ صرف معلومات میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ اپنے وطن، اپنی تہذیب اور اپنے اسلاف سے وابستگی کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کتاب ایک تعلیمی خدمت کے ساتھ ساتھ ایک سماجی اور تہذیبی خدمت بھی ہے۔
مصنف موصوف عرصۂ دراز سے صحافت اور تصنیف و تالیف کے میدان میں سرگرم ہیں۔ ان کا ماہنامہ "نئی روشنی" علمی، ادبی اور سماجی موضوعات پر اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہی مسلسل مطالعہ، تحقیق اور مشاہدہ اس کتاب کے ہر صفحے میں نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے مقامی معلومات کو جمع کرنے کے لیے جس محنت، دیانت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
میری رائے میں اگر اس کتاب کے آئندہ ایڈیشنوں میں جدید نقشوں، رنگین تصاویر، سرکاری اعداد و شمار کی تازہ ترین معلومات اور بعض مقامات کی تاریخی تفصیلات کا مزید اضافہ کردیا جائے تو یہ کتاب نہ صرف ضلع سنت کبیر نگر بلکہ پوروانچل کے دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک مثالی نمونہ بن سکتی ہے۔ تاہم اپنی موجودہ صورت میں بھی یہ ایک قابلِ اعتماد، مفید اور نہایت وقیع علمی کاوش ہے۔
میں مدارس اسلامیہ، مکاتب، اسکولوں، کالجوں اور تمام تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو طلبہ کے مطالعے میں شامل کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں، تاکہ ہماری نئی نسل اپنے ضلع کی جغرافیائی، تاریخی اور تہذیبی شناخت سے اچھی طرح واقف ہوسکے۔ اسی طرح طلبہ، اساتذہ، محققین اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے بھی یہ کتاب یکساں طور پر مفید ثابت ہوگی۔
آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ جناب سلمان کبیر نگری صاحب کی اس علمی خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و قلم میں مزید برکت نصیب فرمائے، انہیں صحت و عافیت کے ساتھ مزید ایسی مفید تصانیف پیش کرنے کی توفیق دے، اور اس کتاب کو اہلِ ضلع سنت کبیر نگر کے لیے صدقۂ جاریہ اور ذریعۂ نفع بنائے۔

تبصرہ: حسان احمد قاسمی
خطیب جامع مسجد مہولی
ضلع سنت کبیر نگر، اتر پردیش

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (3)

تبصرے (0)

شائع کردہ

✍️ Active Reporter ★★★★★
K

Kashif Raza

📍 Gorakhpur

📰 10 پوسٹ👁 962 قارئین📊 96.2 اوسط قارئین

جناب کاشف رضا ایک نوجوان متحرک و فعال صحافی اور کالم نگار ہیں۔

اسی زمرے میں مزید

کتاب حقیقۃ الفقہ: حدیث و فقہ کی تکمیلی حیثیت کو واضح کرتی ہے

مجوداعظم ہند، امام القراء تھے

مقبول ترین پوسٹس

علامہ اقبال اور اردو زبان کی ترویج

👁 538 ویوز

مدینہ یونیورسٹی میں 100 مصنفین کی کتابوں پر پابندی، فہرست میں پہلا نام مولانا ابوالحسن علی ندوی کا

👁 435 ویوز

اولاد کی تربیت شفقت و حکمت سے

👁 358 ویوز

شراب کے دینی و دنیوی نقصانات

👁 295 ویوز

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت!

👁 272 ویوز