تازہ ترین
• عرب ریڈنگ چیلنج: دنیا کا سب سے بڑا ادبی مقابلہ • کتاب حقیقۃ الفقہ: حدیث و فقہ کی تکمیلی حیثیت کو واضح کرتی ہے • حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہل بیت سے محبت اور رشتہ داریاں • مسلمان ایک جسم کے مانند ہے • تلنگانہ میں آئندہ ایم ایل سی انتخابات کے لیے 16 نومبر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں کراسکتے ہیں اندراج • پیارے کھڑگے جی! یہ کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ • انڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن ودربھ اسٹیٹ یونٹ کا اجلاس اختتام پذیر ہوا • گوونڈی میں یو سی سی پر میٹنگ اختتام پذیر • ہر ایک شخص وفادار ہو ضروری کیا • وزیرِ اعلیٰ کیرالا نے دارالہدیٰ سباق 2026 کی دعوت قبول کرلی، لوگو کی رونمائی

ہمیشہ تبلیغ دین اور اصلاح امت کی ضرورت

📅 01-10-2026 👁 25 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
Telegram Box

اللہ تعالی عزوجل نے اپنے بندوں پر احسان جتایا کہ ہم نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنے آخری نبی ورسول(علیہ الصلاۃ والسلام)کو مبعوث فرما دیا،یعنی ان کی تعلیمات پر عمل کرو اور دنیا و آخرت کی نعمتوں کے مستحق بن جاو۔

اس آخری نبی ورسول علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ علمائے دین حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں۔اس کا واضح مفہوم ہے کہ ہر عہد میں تبلیغ دین اور اصلاح امت کی ضرورت ہو گی اور علمائے اسلام تبلیغ دین اور امت مسلمہ کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔

سیاسی لیڈروں کی نظر اپنے ووٹروں پر رہتی ہے۔وہ عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے اور ان کو خوش رکھنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں،مثلا جھوٹے وعدے کرنا،مخالف پارٹیوں کے اُمیدواروں کے خلاف الزام تراشی کرنا،اپنی چھوٹے کاموں کو عظیم کارنامہ بنا کر پیش کرنا،یہاں تک کہ کفریات کے ارتکاب سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔بسا اوقات مسلم سیاسی لیڈر بھی مندر میں چلا جاتا ہے،ٹیکے لگا لیتا ہے۔بتوں کے آگے جھک جاتا ہے۔ہولی اور دیوالی مناتا ہے۔یہ سب باتیں جگ ظاہر ہیں۔

اسی طرح پندرہویں صدی ہجری کے بعض مذہبی رہنماؤں کی نظر بھی اپنے عقیدت مندوں پر ہوتی پے۔وہ اپنا دائرۂ عقیدت وسیع کرنے کے لئے کچھ ایسے کام بھی کر جاتے ہیں جو شرعاً درست نہیں ہیں،حالاں کہ مذہبی رہنماؤں کا رخ اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی طرف ہونا چاہئے،کیوں کہ وہ دین خداوندی اور شرع مصطفوی کی ہی تبلیغ واشاعت اور ترویج و فروغ کے واسطے خود کو وقف کئے ہوئے ہیں۔

مریدین و معتقدین اور محبین ومنتسبین کو مطمح نظر بنا لینا دین ومذہب کے لئے تباہ کن ہے۔رہنما کا رخ عوام کی طرف ہو گا تو عوام کا رخ بھی خدا کی طرف نہیں ہو سکتا۔اپ کے معتقد بھی اپنے لئے کچھ معتقد تلاش کریں گے اور ان کے درمیان عزت وعظمت کے خواہاں ہوں گے۔یہی نفس امارہ کا تقاضا ہے اور آپ دین خداوندی کے مبلغ ہیں،نہ کہ تسکین نفس کا نسخہ فراہم کرنے والے مدبر۔

عوام مسلمین اور علمائے دین دونوں کا رخ اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی طرف ہونا چاہئے،جیسے نماز میں امام و مقتدی سب کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔ہر خاص وعام اپنی توجہ اللہ ورسول(عزو جل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی طرف رکھے،تاکہ دلوں میں طاعت الہی اور محبت نبوی کا جذبہ بیدار رہے۔کسی کو اپنا مطمح نظر بنا لینا نقصان دہ ہے۔

تحریر: طارق انور مصباحی
جاری کردہ:01:اکتوبر 2026

— via Telegram: News Home

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

✍️ Active Reporter ★★★★★

News Home

📍 Gorakhpur

📰 35 پوسٹ👁 2685 قارئین📊 76.7 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

نعتِ رسول: دل میں دیدارِ مدینہ کا وہ درد اٹھا کہ بس

مقبول ترین پوسٹس

علامہ اقبال اور اردو زبان کی ترویج

👁 538 ویوز

مدینہ یونیورسٹی میں 100 مصنفین کی کتابوں پر پابندی، فہرست میں پہلا نام مولانا ابوالحسن علی ندوی کا

👁 435 ویوز

اولاد کی تربیت شفقت و حکمت سے

👁 358 ویوز

شراب کے دینی و دنیوی نقصانات

👁 295 ویوز

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت!

👁 272 ویوز