تازہ ترین
• عرب ریڈنگ چیلنج: دنیا کا سب سے بڑا ادبی مقابلہ • کتاب حقیقۃ الفقہ: حدیث و فقہ کی تکمیلی حیثیت کو واضح کرتی ہے • حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہل بیت سے محبت اور رشتہ داریاں • مسلمان ایک جسم کے مانند ہے • تلنگانہ میں آئندہ ایم ایل سی انتخابات کے لیے 16 نومبر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں کراسکتے ہیں اندراج • پیارے کھڑگے جی! یہ کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ • انڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن ودربھ اسٹیٹ یونٹ کا اجلاس اختتام پذیر ہوا • گوونڈی میں یو سی سی پر میٹنگ اختتام پذیر • ہر ایک شخص وفادار ہو ضروری کیا • وزیرِ اعلیٰ کیرالا نے دارالہدیٰ سباق 2026 کی دعوت قبول کرلی، لوگو کی رونمائی

قاری شبیر احمد قاسمی کا انتقال ملت کے لئے عظیم سانحہ

📅 03-10-2026 👁 21 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 2 شیئر
PostMail

قاری شبیر احمد قاسمی کا انتقال ملت کے لئے عظیم سانحہ اور بڑا علمی خسارہ :
مولانا ڈاکٹرابوالکلام قاسمی شمسی
پٹنہ(پریس ریلیز):مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ ،ضلع دربھنگہ کے ناظم قاری
شبیر احمد قاسمی کا ۲؍اکتو بر ۲۰۲۶ء کو انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کی خبر
پھیلتے ہی علمی حلقہ سوگوار ہوگیا۔ قاری صاحب ذہین و فطین تھے ، اردو زبان
وادب پر قدرت اور تقریر وتحریر دونوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ
وہ گوناگوں صفات کے حامل تھے۔ ان کی وفات ملت کے لئے عظیم سانحہ اور بڑا خسارہ
ہے ۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے پریس
ریلیز میں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قاری صاحب زمانۂ طالب علمی ہی سے
اردو زبان وادب کا شوق رکھتے تھے۔ اور اس فن کا مطالعہ ان کا محبوب مشغلہ
تھا، اردو زبان وادب کے خصوصی مطالعہ نے ان کے اندر زبان و ادب کی گہری
بصیرت پیدا کردی ، جس کا اظہار ان کی گفتگو اور ان کی تقریر سے بھی ہوتا تھا۔
وہ شعر وشاعری سے بھی دلچسپی رکھتے تھے ، اشعار بھی کہتے تھے اور ’’حافظ‘‘
تخلص کرتے تھے۔ وہ بالخصوص اپنی شاعری کی وجہ سے حلقۂ احباب میں کافی مقبول
رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت سے نوازا تھا، ان کا حافظہ قوی تھا ،کتابوں
کا مطالعہ ان کا محبوب مشغلہ تھا، جس کی وجہ سے ان کی گفتگو ادبی اور علمی ہوا
کرتی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مدرسہ اسلامیہ شکرپور ایک مکتب تھا ، قاری شبیر
احمد قاسمی نے اس کو ترقی دے کر اعلیٰ مقام پر پہنچایا، انہوں نے مدرسہ کی
ظاہری تعمیر کے ساتھ علمی وتعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی، جس
کی وجہ سےاس مدرسہ نے علاقے میں ایک نمایاں دینی تعلیمی ادارے کی حیثیت حاصل
کی، جس کا فیض جاری ہوا اور لاکھوں طلبہ نے اس سے فیض حاصل کیا ۔یہ قاری صاحب
مرحوم کا بڑا کارنامہ ہے۔موصوف اساتذہ اور طلبہ کے درمیان یکساں مقبول رہے، وہ
شفیق، علمی وقار، ملنسار ، اور حسن اخلاق کے حامل تھے۔مولانا ڈاکٹر ابوالکلام
قاسمی شمسی نے قاری شبیر احمد قاسمی کے انتقال کو دینی، علمی اور ادبی حلقہ
کے لئے بڑا نقصان قرار دیا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ،لواحقین کو صبر جمیل
اور ملت اسلامیہ کو نعم البدل عطا فرمائے ۔

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (2)

تبصرے (0)

شائع کردہ

✍️ Active Reporter ★★★★★

News Home

📍 Gorakhpur

📰 35 پوسٹ👁 2686 قارئین📊 76.7 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

عرب ریڈنگ چیلنج: دنیا کا سب سے بڑا ادبی مقابلہ

جمہوریت اور انتخابی شفافیت کا علمبردار: راہل گاندھی کا بدلتا ہوا سیاسی چہرہ

یوتھ ویکیشن کیمپ برائے 25 تا 35 سال کے نوجوان

مقبول ترین پوسٹس

علامہ اقبال اور اردو زبان کی ترویج

👁 538 ویوز

مدینہ یونیورسٹی میں 100 مصنفین کی کتابوں پر پابندی، فہرست میں پہلا نام مولانا ابوالحسن علی ندوی کا

👁 435 ویوز

اولاد کی تربیت شفقت و حکمت سے

👁 358 ویوز

شراب کے دینی و دنیوی نقصانات

👁 295 ویوز

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت!

👁 272 ویوز