عرس کے نام پر دین اسلام و احکام کی پامالی اور جدید معاشرتی خرافات
اسلام ایک ایسا کامل اور مکمل ضابطہ حیات ہے جس کی بنیا د توحیدِ باری تعالیٰ، اتباعِ سنت اور احکامِ شریعت کی پاسداری پر قائم ہے۔ تاریخِ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ برصغیر پاک و ہند اور دیگر خطوں میں اشاعتِ اسلام اور ترویجِ دین کا بڑا سہرا اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کے سر ہے۔ ان عظیم ہستیوں کی زندگی کا بنیادی مقصد انسانوں کو خالقِ حقیقی کے ساتھ جوڑنا، اتباعِ سنت کی ترغیب دینا، اور لوگوں کو معصیت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر شریعتِ مطہرہ کی روشن شاہراہ پر گامزن کرنا تھا۔
تاہم، عصرِ حاضر میں اولیائے کرام کی یاد اور ایصالِ ثواب کے نام پر منعقد کیے جانے والے اجتماعات، جنہیں عرفِ عام میں "عرس" کہا جاتا ہے، اپنے اصل دینی و روحانی مقاصد سے مکمل طور پر انحراف کر چکے ہیں۔ جس مناسبت کو ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، ایصالِ ثواب اور اصلاحِ نفس کا ذریعہ بننا چاہیے تھا، وہ بدقسمتی سے شرعی منکرات، اخلاقی زوال، اور غیر اسلامی خرافات کا گڑھ بن چکی ہے۔ زیرِ نظر مقالے میں عرس کے نام پر ہونے والی مختلف دینی و معاشرتی تجاوزات کا علمی اور تحلیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
عورتوں کا مزارات پر اختلاط اور بے پردگی کا مسئلہ
عصرِ حاضر میں عرس کے اجتماعات کا ایک انتہائی نگران کن پہلو مزارات اور آستانوں پر عورتوں کا آزادانہ اور بے باک اجتماع ہے۔ اسلام نے خواتین کے لیے حیا، عفت اور حجاب کو بنیادی شرعی فریضہ قرار دیا ہے اور ہر ایسے اجتماع سے اجتناب کی تاکید کی ہے جہاں مرد و زن کا بے جا اختلاط اور فتنے کا خدشہ ہو۔
عرس کے مواقع پر ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین کا ازدحام ہوتا ہے، جہاں نہ صرف شرعی پردے کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے بلکہ بے حجابی اور بے باکی کا مظاہرہ بھی عام دیکھنے میں آتا ہے۔ کتبِ فقہ اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں علماء و محدثین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ عورتوں کا ایسی جگہوں اور مزارات پر جانا جہاں فتنہ اور بے پردگی کا غالب گمان ہو، سخت ممنوع اور گناہ کا باعث ہے۔ اولیائے کرام کا احترام اور ان سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ خواتین اپنے گھروں کے مقدس ماحول میں بیٹھ کر ان بزرگوں کے لیے ایصالِ ثواب کریں، نہ کہ مزارات کے میلوں میں جا کر شریعت کے حدود توڑیں۔
سجدہ ریزی، مساجد کی ویرانی اور اقامتِ نماز سے غفلت
دینِ اسلام کی سب سے بنیادی تعلیم "توحید" ہے، یعنی عبادتی اور تعظیمی سجدہ اور نذر و نیاز صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذاتِ بابرکات کے لیے مخصوص ہے۔ انبیاء، مرسلین اور اولیائے کرام مخلوق ہیں اور کسی بھی مخلوق کی چوکھٹ پر سجدہ کرنا یا اسے حاجت روا سمجھنا صریحاً اسلام کی بنیادی تعلیمات اور توحیدِ خالص کے منافی ہے۔
آج مزارات پر جاہل اور ناخواندہ افراد کی ایک بڑی تعداد کو مزارات کی جالیوں، چوکھٹوں اور قبور کے سامنے سجدہ ریز ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ المناک صورتِ حال یہ ہے کہ عرس کے ایام میں مزارات کے ارد گرد میلوں اور قوالیوں کا شور تو شباب پر ہوتا ہے، لیکن جب قریب ہی واقع مساجد سے "حی علی الصلاۃ" کی صلا بلند ہوتی ہے تو مزار پر موجود ہجوم کی اکثریت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ نماز جیسی اہم ترین فرض عبادت کو چھوڑ کر مزارات کی فضول رسومات اور سیر و تفریح میں مگن رہتے ہیں۔ مساجد ویران پڑی رہتی ہیں جبکہ مزارات کے گلیارے لوگوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ روش ان اولیائے کرام کی سیرت و تعالیمات سے کھلم کھلا بغاوت ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی نماز کی پابندی اور شب بیداری میں گزاری۔
مالی اسراف، زرق برق اور محتاجوں سے بے وفائی
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فضول خرچی کرنے والوں کو "شیطان کا بھائی" (إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ) قرار دیا ہے۔ اسلام ہر مسلمان کو اپنے مال کو اعتدال اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے خرچ کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔
عرس کے دنوں میں آرائش، قیمتی چادروں کی نمائش، لائٹنگ اور آتش بازی پر لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے بے دردی سے بہا دیے جاتے ہیں۔ مزارات کے اوپر پیسے لٹانے اور نذرانے چڑھانے کا ایک لایعنی سلسلۂ رواں رہتا ہے۔ دوسری طرف اسی معاشرے میں بے شمار یتیم، بیوہ، مقروض اور بیمار افراد ایک ایک روپیہ کی روٹی اور دوا کے لیے ترستے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہی خطیر رقم جو نمائش اور خرافات پر ضائع کی جاتی ہے، غریبوں کی فلاح و بہبود، مستحق بچوں کی تعلیم، بیواؤں کی کفالت اور مریضوں کے علاج پر خرچ کی جائے تو یہ نہ صرف معاشرتی فلاح کا سبب بنے گی بلکہ اولیائے کرام کی روح کے لیے بھی ایک حقیقی اور نافع ایصالِ ثواب ثابت ہوگی۔
ڈھول تاشے، قوالی، رقص اور تفریحی خرافات
اسلامی تعلیمات میں وقار، خشوع، عاجزی اور فکرِ آخرت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی بزرگ کی قابر یا مزار پر حاضری کا اصل مقصد الموت اور آخرت کو یاد کرنا اور عبرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
لیکن موجودہ دور کے عرس کے اجتماعات کو تفریح گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں ڈھول تاشے بجانا، باجے گاجے کے ساتھ جلوس نکالنا، نام نہاد قوالی کے نام پر ساز و سامان اور رقص و سرور کی محفلیں سجانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ یہ تمام امور نہ صرف دینی سنجیدگی اور وقار کو ختم کرتے ہیں بلکہ مزارات کی روحانیت کو بھی داغدار کرتے ہیں۔ جو جگہ خوفِ خدا اور آنسو بہانے کی تھی، اسے نچانے اور گانے کی جگہ بنا دیا گیا ہے، جو کہ شرعی احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اصلاحِ احوال کی ضرورت اور امت کی ذمہ داری
ان تمام حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عرس کے نام پر جو کچھ آج ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے، اس کا دینِ اسلام، فقه، اور صوفیائے کرام کی پاکیزہ تعلیمات سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ اس بگاڑ کی اصلاح کے لیے درج ذیل اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں:
علماء و دانشوروں کا کردار: علماءِ کرام، آئمہ مساجد اور خطباء کو چاہیے کہ وہ منبر و محراب کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے عوام الناس کو توحید، اتباعِ سنت اور اولیائے کرام کے حقیقی مقام و مرتبے سے آگاہ کریں اور انہیں ان خرافات کے نقصان سے خبردار کریں۔
عوامی شعور و بیداری: عوام کو یہ بات ذہن نشین کرانی ہوگی کہ ولی کی محبت کا ثبوت ان کی سچی پیروی (نماز کی پابندی، حلال روزی، اور اخلاقِ حسنہ) میں ہے، نہ کہ ان کے نام پر میلے لگانے اور بدعات کا حصہ بننے میں۔
انفرادی و خاندانی تربیت: ہر شخص کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کو ان غیر شرعی اجتماعات میں جانے سے روکے اور اپنے مالی عطیات کو صحیح مصرف یعنی مساکین، یتامى اور دینی اداروں پر خرچ کرے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ عرس کے نام پر ہونے والے موجودہ افعال، یعنی بے پردگی، سجدہ ریزی، مساجد سے غفلت، اسراف، اور ڈھول تاشے جیسے خرافات، دینِ اسلام کے احکام کی سخت پامالی اور دین کے ساتھ کھیلواڑ کے مترادف ہیں۔ اولیائے کرام شریعت کے پاسبان اور سنتِ نبوی کے پیکر تھے؛ ان کے نام پر شریعت کی دھجیاں اڑانا ان کی پاکیزہ روحوں کو ایذا پہنچانے کے برابر ہے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ان تمام خرافات اور بدعات سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کریں اور اسلام کی صاف، شفاف، اور سادہ تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
تحریر: مرزا بشارت کریم ، سیتا مڑھی بہار
زیر تعلیم جامعہ دارالھدی اسلامیہ
تبصرے (0)
شائع کردہ
اسی زمرے میں مزید

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہل بیت سے محبت اور رشتہ داریاں

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی!





